تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 44
م کہ ہمارا اثاثہ لے لیا جائے اگر چہ ہم نے لیا نہیں۔کیونکہ میرے اصل مخاطب امرار تھے۔مگر اس سے اتنا پتہ تو لگ سکتا ہے کہ جماعت میں ایسے مخلصین بھی ہیں جو اپنی ہر چیز قربان کر دینے کے لئے تیار ہیں۔اس سلسلہ میں مجھے یہ شکایت پہنچی ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدیدار لوگوں کو یہ کہ کر خموش کر رہے ہیں کہ جلدی نہ کرو پہلے غور کر لو۔گویا اُن کے غور کا زمانہ ابھی باقی ہے۔ڈیڑھ دو مہینہ سے میں خطبات پڑھ رہا ہوں اور تمام حالات وضاحت سے پیش کر چکا ہوں لیکن ابھی ان کے غور کا موقعہ ہی نہیں آیا۔یہ مشورہ کوئی نیک مشورہ نہیں یا سادگی پر دلالت کرتا ہے یا شاید بعض خود قربانی سے ڈرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اس سے روکنا چاہتے ہوں کہ ان کی شستی اور غفلت پر پردہ پڑا رہے۔کیا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہار کے موقعہ پر پہلے غور کیا جاتا تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ جلدی نہ کرو خور کر لو۔قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الخَيْرَاتِ یعنی دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اور جلدی کی کوشش کرو۔۔۔جماعتی لحاظ سے بعض مقامات سے مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ سماعتیں اپنی لسٹیں کھٹی بھجوائیں گی۔گویا دیر اس وجہ سے ہے۔ان جماعتوں پر یا ان کے افراد پر کوئی الزام نہیں۔مگر ان میں سے بھی بعض مخلصین ایسے ہیں جنہوں نے اس دیر کو بھی برداشت نہیں کیا اور رقمیں بھیج دی ہیں اور جماعت کا انتظار بھی نہیں کیا۔یہ گو معمولی باتیں ہیں۔مگر روحانی دنیا میں یہی چیزیں ثواب بڑھا دینے کا باعث ہو بھایا کرتی ہیں" سے بیرونی ممالک سے تحریک جدید ) بیرونی مالک میں سب سے پہلے بلاد عربیہ کے احمدیوں نے تحریک جدید پر لبیک کہا اور نہ صرف چندہ کے وعدے بھیجوائے بلکہ اُن کا ایک حصہ نقد کے حق میں آواز بھی بھیجوا دیا۔چنانچہ شروع فروری ۱۹۳۶ تک جماعت حیفا کی طرف سے چار سو شلنگ کے وعدے موصول ہوئے جن میں سے بہتر شلنگ کی رقم بھی پہنچ گئی۔علاوہ انہیں مدرسہ احمد یہ کیا بیر حیفا) کے احمدی بچوں نے بھی آٹھ شلنگ چندہ بھیجوایا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت احمدیہ حیفا کے افراد خصوصاً حیفا احمدی بچوں کا اخلاص اور قربانی کی بہت تعریف فرمائی اور دعا دی کہ اللہ تعالے ان بچوں کے اخلاص کو قبول کرے اور دنیا میں چپکنے والے ستارے بنائے کہ ان کی روشنی سے فلسطین ہی نہیں بلکہ سب دنیا روشن ہو اور یہ احمد میت کی مه خطبه جمعه فرموده ۱۴ دسمبر اس الله والفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۳۷ صفحه ۰۶۰۵ سے اسی ضمن میں حضور نے حیفا کی انجمن طلبہ بر جماعت احمدیہ کا ایک خط بھی شائع فرمایا جس پر اسمعیل احمد ( پریذیڈنٹ) موسی اسعد (سیکرٹری) اور عبد الجلیل حسین (خر انجی کے دستخط تھے ،