تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 572
۵۵۱ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی محمد سلیم صاحب فاضل اور غیر احمدیوں کی طر جیسے موادی ظہور احمد صاحب پیش ہوئے۔دوسرا مناظرہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی نے کیا۔مد مقابل سے مولوی محمد شفیع صاحب نے بحث کی۔تیسرا مناظرہ مولوی محمد سلیم صاحب نے کیا۔ران مناظروں کا غیر احمدی پبلک پر بہت اچھا اثر تھا۔کئی لوگوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے مولولوں کے پاس ٹھٹھے اور مخول کے سوا کچھ نہیں ہے۔مناظرہ کے آخر میں غیر احمدی مولویوں نے ایک خیر احمدی کو کھڑا کر دیا کہ تم کہو میں محدویت سے توبہ کرتا ہوں۔حالانکہ وہ شخص احمدی ہی نہیں تھا۔نہ اُس نے کبھی بیعت کی تھی ہے : ; - مباحثه دیرو دال : اکتوبر ۱۹۳۵ میں دیرہ وال میں مولوی محمد سلیم صاحب نے مسئلہ فات وحیات مسیح علیہ السلام اور آخری فیصلہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے موضوع پر اور مولوی دل محمد صاحب نے مسئلہ نبوت اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر مناظرے کئے۔غیر احمدیوں کے مناظر عبد اللہ صاحب معمار امرتسری تھے۔غیر احمدیوں اور غیر مسلموں دونوں نے مناظرہ میں فتح پر احمدیوں کو مبارک باد دی۔بالخصوص شیعہ اصحاب نے نہایت واضح الفاظ میں احمدیوں کی کامیابی کا اقرار کیا ہے مباحثه مند هر :- صوبہ سندھ کے مبلغ قریشی محمد نذیر صاحب ملتانی نے صوبہ بھر میں کثرت لیکچر دیے تھے اور اس کے نتیجہ میں سندھ کی احمدیہ جماعتیں بھی تبلیغ میں سرگرم عمل ہو گئی تھیں۔یہ بیداری دیکھ کر غیر احمدیوں نے جماعت احمد یہ سندھ سے مناظرہ کی طرح پانی اور باہر سے متعدد علماء بلائے۔چنانچہ یکے بعد دیگرے دو مناظر سے ہوئے۔له در الفضل پور اکتوبر ست ۱۹۳ د متحده الفضل و راکتوبر ۱۳ نفره کالم ۴