تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 548
۵۲۷ بڑی طاقت اور سامانوں کی فراوانی حاصل تھی ورنہ چند سالوں کے اندر اندر اکبر اس قدر وسیع شہر اور اتنا وسیع قلعہ ہرگز نہ بناسکتا مغلیہ خاندان کے جو قلعے میں نے دیکھے ہیں اُن میں سے در حقیقت یہی قلعہ کہتے کا مستحق ہے ورنہ آگرہ کا قلعہ اور دلی کا قلعہ صرف محل ہیں۔قلعہ کا نام انہیں اعزازی طور پر دیا گیا ہے۔قلعہ کی اغراض کو دکن کے قلعے زیادہ پورا کرتے ہیں اور یا پھر فتح پور سیکری کے قلعہ میں جنگی ضرورتوں 7 کو مد نظر رکھا گیا ہے۔دہلی میں میں نے جامع مسجد دیکھی۔دہلی کا قلعہ دیکھا خوایر نظام الدین صاحب اولیاء کا مزار دیکھا منصور اور ہمایوں کے مقابر دیکھے۔قطب صاحب کی لاٹ دیکھی۔حوض خاص دیکھا پڑتا قلعہ دیکھا بجنتر منتر دیکھا تعلق آباد اور اوکھلا بند دیکھا۔ہم نے ان سب چیزوں کو دیکھا اور عبرت حاصل کی۔اچھے کاموں کی تعریف کی اور لغو کاموں پر افسوس کا اظہار کیا مسلمانوں کی ترقی کا خیال کر کے دل میں ولولہ پیدا ہوتا تھا اور ان کی تباہی کو دیکھ کر رنج اور افسوس پیدا ہوتا تھا جن لوگوں نے ہمت سے کام لیا اُن کے لئے دل سے آفرین نکلتی تھی اور جنہوں نے آثار قدیمہ کی تحقیق کی بعض گڑی ہوئی عماد توں کو کھودا پرانے سیکوں کو نکالا اور جو آثار پہلے انہیں محفوظ کر دیا۔اُن کے کاموں کی ہم تعریف کرتے تھے۔ان میں سے بعض مقامات میرے پہلے بھی دیکھے ہوئے تھے جیسے دہلی اور آگرہ کے تاریخی مقامات ہیں۔مگر بعض اس دفعہ نے دیکھے اور یہ ایک مقام سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہم نے لطف اُٹھایا، میں نے اپنے ظرف کے مطابق۔میرے ساتھیوں نے اپنے ظرف کے مطابق ، اور مستورات نے اپنے ظرف کے مطابق۔یوں تو ہر جگہ میری طبیعت ان نشانات کو دیکھ دیکھ کر ماضی میں گم ہو جاتی تھی۔میں مسلمانوں کے ماضی کو دیکھتا اور حیران رہ جاتا کہ انہوں نے کتنے بڑے بڑے قلعے بنائے اور وہ کس طرح ان قلعوں پر کھڑے ہو کر دنیا کو چیلنج کیا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو ہمارا مقابلہ کر سکے مگر آج مسلمانوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔پھر میں اُن کے حال کو دیکھتا اور افسردہ ہو جاتا تھا۔لیکن تغلق آباد کے قلعے کو دیکھ کر جو کیفیت میرے قلب کی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔یہ قلعہ غیاث الدین تغلق کا بنایا ہوا ہے اور اس کے پاس ہی غیاث الدین تغلق کا مقبرہ بھی ہے۔یہ قلعہ ایک بلند جگہ پر واقع ہے خاصہ او پر پڑھ کر اس میں داخل ہونا پڑتا ہے جہا نک ٹوٹے پھوٹے آثار سے میں سمجھ سکا ہوں اس کی تین فصیلیں ہیں۔اور ہر فضیل کے بعد زمین اور اُونچی ہو جاتی ہے۔جب ہم اس پر چڑھے تو میرے ساتھ میری بڑی ہمشیرہ بھی تھیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود