تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 547
۵۲۶ اور کہا تھا کہ اوپر مت جاؤ اور حیدر آبادی زبان میں کوئی ایسا لفظ بھی استعمال کیا تھا حسین کا مفہوم یہ تھا کہ اوپر گئے تو بڑی تکلیف ہوگی مگر ہمیں تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔شاید حیدر آبادی دوستوں کو تکلیف ہوتی ہو تو خیر ہم وہاں سے پھر پھرا کر واپس آگئے۔یہ قلعہ نہایت اونچی جگہ پر ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نہایت شاندار اور اسلامی شان و شوکت کا ایک پر شوکت نشان ہے۔اس قلعہ کی چوٹی پر میں نے ایک عجیب بات یکھی اور وہ یہ کہ وہاں ہزاروں چھوٹی چھوٹی مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک ایک مسجد اس سٹیج کے جو تھے یا پانچویں حصہ کے برابر بھی پہلے تومیں نے سمجھا کہ یہ مقبرے ہیں۔مگر جب میں نے کسی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ سب مسجدیں ہیں اور اس نے کہا کہ جب عالمگیر نے اس جگہ حملہ کیا ہے تو اُسے ریاست کو فتح کرنے کے لئے کئی سال لگ گئے اور مسلسل کئی سال تک لشکر کو یہاں قیام کرنا پڑا۔اس وجہ سے اس نے نمازیوں کے لئے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر ہزاروں مسجدیں بنا دیں۔مجھے جب یہ معلوم ہوا تو میرا دل بہت ہی متاثر ہوا اور میں نے سوچا کہ اس وقت کے مسلمان کس قدر باجماعت نماز ادا کرنے کے پابند تھے کہ وہ ایک ریاست پر حملہ کرنے کے لئے آتے ہیں مگر جہاں ٹھہرتے ہیں وہاں ہزاروں مسجدیں بنا دیتے ہیں تا کہ نماز باجماعت کی ادائیگی میں کوئی کوتا ہی نہ ہو۔اسی طرح آگرہ اسلامی دنیا کے عظیم الشان آثار کا مقام ہے۔وہاں کا تاج محل دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔وہاں کا قلعہ فتح پور سیکری اور سلیم پیشتی صاحب جو خواجہ فرید الدین صاحب گنج شکر پاکپٹن کی اولاد میں سے تھے ، اُن کا مقبرہ عالم ماضی کی کیف انگیز یادگاریں ہیں۔میں نے اُن میں سے ایک ایک چیز دیکھی اور جہاں ہمیں یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ اسلامی بادشاہ نہایت شوکت عظمت کے ساتھ دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں وہاں یہ دیکھ کر رینج اور افسوس بھی ہوا کہ آج مسلمان نہیں ہو رہے ہیں اور کوئی اُن کا پرسان حال نہیں۔فتح پور سیکری کا قلعہ در حقیقت مغلیہ خاندان کے عروج کی ایک حیرت انگیز مثال ہے پچند سال کے اندر اقتدا کبر کا اس قدر زیر دست قلعہ اور شہر تیار کر دینا جیس کے آثار کو اب تک امتداد زمانہ نہیں میٹا سکا، بہت بڑی طاقت اور سامانوں کی فراوانی پر دلالت کرتا ہے۔یہ اتنا وسیع قلعہ ہے کہ دور بین سے ہی اس کی حدوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔خالی نظر سے انسان اس کی حدوں کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا اور اب تک اس کے بعض حصے بڑے محفوظ اور عمدگی سے قائم ہیں۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوں کو بہت i