تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 549
AYA علی الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ نواب مبارک بیگم اسی طرح میری چھوٹی بیوی اور متالی مروجہ کے بطن سے جو میری بڑی لڑکی ہے وہ بھی میرے ہمراہ تھیں۔ہمشیرہ تو تھک کر پیچھے رہ گئیں۔مگر میں، میری ہمراہی بیوی اور لڑکی ہم تینوں اوپر چڑھے اور آخر ایک عمارت کی زمین پر پہنچے جو ایک بلند ٹیکرسے پر بنی ہوئی تھی۔یہاں سے ساری دہلی نظر آتی تھی۔اس کا قطمینا، اُس کا پرانا قلعہ انٹی اور پرانی دہلی اور ہزاروں عمارات اور کھنڈر بھاروں طرف سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اُسے دیکھ رہے تھے اور قلعہ اُن کی طرف گھور رہا تھا۔میں اس جگہ پہنچ کر کھڑا ہو گیا۔اور پہلے تو اس عبرتناک نظار پر غور کرتا رہا کہ یہ بلند ترین عمارت جو تمام و علی پر بطور پہرہ دار کھڑی ہے اس کے بنانے والے کہاں چلے گئے۔وہ کس قدر اولوالعزم، کس قدر با ہمت اور کس قدر طاقت و قوت رکھنے والے بادشاہ تھے جنہوں نے ایسی عظیم انسان یادگاریں قائم کیں۔وہ کس شان کے ساتھ ہندوستان میں آئے اور کس شان کے ساتھ یہاں مرے۔مگر آج اُن کی اولادوں کا کیا حال ہے۔کوئی اُن میں سے بڑھی ہے، کوئی لوہار ہے، کوئی معمار ہے، کوئی موچی ہے اور کوئی میراتی ہے۔میں انہی خیالات میں تھا کہ میرے خیالات میرے قابو سے باہر نکل گئے اور میں کہیں کا کہیں جا پہنچا۔سب بجائبات جو سفر میں میں نے دیکھے تھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔دہلی کا یہ وسیع نظارہ جو میری آنکھوں کے سامنے تھا، میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا۔اور آگرہ اور حیدر آباد اور سمندر کے نظارے ایک ایک کر کے سامنے سے گزرنے لگے۔آخر وہ سب ایک اور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہو گئے۔میں اس محویت کے عالم میں کھڑا رہا ، کھڑا رہا اور کھڑا رہا اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اُس کو کیا ہو گیا یہانتک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی کہ ابا جان دیر ہو گئی ہے۔میں اس آواز کوشنکر پھر اسی مادی دنیا میں آگیا۔مگر میرا دل اس وقت رقت انگیز جذبات سے پر تھا نہیں وہ خون ہو رہا تھا اور خون کے قطرے اُس سے ٹپک رہے تھے مگر اس زخم میں ایک لذت بھی تھی اور وہ غم سرور سے ملا ہوا تھا میں نے افسوس سے اس دنیا کو دیکھا اور کہا کہ میں نے پا لیا ہمیں نے پالیا ! جب میں نے کہا "یکن نے پالیا۔میں نے پا لیا تو اس وقت میری وہی کیفیت تھی۔