تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 546
۵۲۵ ہوں کہ اُس نے مجھے اس سفر کا موقع دے دیا تا وہ خیال جو ایک شکوہ کے رنگ میں مسلمان شہر فارسے متعلق میرے دل میں پیدا ہو چکا تھا کہ انہوں نے وہ اُمید پوری نہیں کی جو اُن پر مجھے تھی وہ دُور ہو جائے۔چنانچہ مجھے پھر اس سفر نے یہ ثابت کر دیا کہ میرا پہلا خیال غلط تھا اور در حقیقت اُن کی خاموشی صرف ہیبت کی وجہ سے تھی ورنہ شریعت دل میں شریف ہی تھے اور وہ اس گند کو پسند نہیں کرتے تھے جو احرار کی طرف سے اُچھالا گیا " ہے جہاں تک علمی پہلو کا تعلق ہے اس سفر کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ حیدر آباد مادی یادگاروں سے دکن اور آگرہ کی قدیم تاریخی یادگاروں اور عمارتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد جب عالمی روحانی کا انکشاف حضور نے حویلی میں غیاثالدین تعلق کا تعمیر کره قلعه ملاحظه فرمایا تصور کروم بوده کی طرح عالم روحانی کے انکشاف کی ایسی زیر دست تجلتی ہوئی کہ آپ کی زبان پر بیساختہ جاری ہو گیا۔" میں نے پالیا۔میں نے پالیا " اس ایمان افروز واقعہ کی تفصیلات خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے مبارک الفاظ میں درج کرنا ضروری ہے بحضور فرماتے ہیں :۔حیدرآباد میں میں نے بعض نہایت ہی اہم تاریخی یادگاریں دیکھیں جن میں سے ایک گولکنڈہ کا قلعہ بھی ہے۔یہ قلعہ ایک پہاڑ کی نہایت اُونچی چوٹی پر بسا ہوا ہے اور اس کے گرد عالمگیر کی لشکر کشی کے آنانہ اور اہم قابل دید اشیاء ہیں۔یہاں کسی زمانہ میں قطب شاہی حکومت ہوا کرتی تھی اور اس کا دارالله گولکنڈہ تھا۔یہ قلعہ حیدر آباد سے میل ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ایک نہایت اُونچی چوٹی پر بڑا وسیع قلعہ بنا ہوا ہے۔یہ قلعہ اتنی بلند چوٹی پر واقعہ ہے کہ جب ہم اس کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھتے چلے گئے توحیدر آباد کے وہ دوست جو ہمیں یہ قلعہ دکھانے کے لئے اپنے ہمراہ لائے تھے اورجو گورنمنٹ کی طرف سے ایسے محکموں کے افسر اور ہمارے ایک احمدی بھائی کے عزیز ہیں انہوں نے کہا کہ اب آپ نے اسے کافی دیکھ لیا ہے آگے نہ جائیے۔اگر آپ گئے تو آپ کو تکلیف ہوگی۔چنانچہ خود تو انہوں نے شریفے لئے اور وہیں کھانے بیٹھ گئے۔مگر ہم اس قلعہ کی چوٹی پر پہنچ گئے۔جب میں واپس آیا تو میں نے دریافت کیا کہ مستورات کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اُو پر گئی ہیں۔خیر تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آگئیں۔نہیں نے اُن سے کہا کہ تم کیوں کئی تھیں ؟ وہ کہنے لگیں۔انہوں نے ہمیں روکا تو تھا " الفصل ۲۴ نومبر ۱۹۳۶ صفحه ۵۰۴ +