تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 545
۵۲۴ جائیں گے جو اُس کے ہم مذہب ہوں گے۔پس ان دعوتوں میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوئے اور اُن کی باتوں سے میں نے معلوم کیا کہ در حقیقت احرار کا یہ دعوی کہ اُن کا مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے اور یہ کہ وہ گند جسے شرافت برداشت بھی نہیں کر سکتی مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے یہ بائل غلط ہے۔اور اس طرح میرے ان خیالات کا ازالہ ہوا جو شرفاء کے متعلق میرے دل میں پیدا ہو چکے تھے اور میں نے سمجھا کہ اگر ان ایام میں مسلمان خاموش رہے تھے تو محض مخالفت کی مہیبت کی وجہ سے۔نہ اس و یہ ہے کہ احرار کا اُن کے دلوں پر کوئی اثر ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے باطنی کے گناہ سے بچا لیا۔مجھے پریوں اتر سوں ہی حیدر آباد سے ایک معزز آدمی کا خط ملا ہے۔وہ لکھتا ہے میں خود آپ سے ملنا چاہتا تھا کہ دیکھوں تو جس شخص کی اس قدر تعریف اور اس قدر مذمت ہوتی ہے وہ ہیں کیسے۔خیالات ہرشخص کے مختلف ہوتے ہیں۔اس کے لحاظ سے جو چاہے آپ کے متعلق کہہ لیا جائے۔مگر اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ کے اخلاق اور آپ کی محبت نا قابل اعتراض اور قابل تقلید ہے یہی اثر میں سمجھتا ہوں عام طور پر دوسرے لوگوں کے دلوں پر بھی تھا اور بجائے اس کے کہ وہ اس گند سے متاثر ہوتے سوائے چند لوگوں کے باقی تمام شرفاء صورت حالات کو حیرت سے دیکھتے تھے۔اور خواہش رکھتے تھے کہ ہم معلوم کریں یہ کیسی جماعت ہے اور اس کا امام کیسا شخص ہے۔پس اقرار کے گند سے مسلمانوں کے شریف طبقہ میں صرف تجسس پیدا ہوا۔ایک رو تحقیق کی پیدا ہوئی۔اس سے زیادہ انہوں نے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔اسی طرح میرے یہاں پہنچنے پر دو چار دن کے بعد ایک مشہور مسلمان لیڈر نے جنہیں گورنمنٹ کی طرف سے سر کا خطاب بھی ملا ہوا ہے مجھے لکھا کہ میں آپ کے سفر کے حالات اختیار میں نور سے پڑھتا رہا ہوں اور میں اس دورہ کی کامیابی پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں حالانکہ اُن کا اس سفر سے کوئی واسطہ نہ تھا۔نہ وہ ان شہروں میں سے کسی ایک میں رہتے تھے جہاں میں گیا۔نہ وہ اُن علاقوں کے باشندے ہین۔ایک دُور دراز کے علاقہ میں وہ رہتے ہیں اور مسلمانوں کے مشہور لیڈر ہیں۔مگر انہوں نے بھی اس دورہ کی کامیابی پر مبارکباد کا خط لکھنا ضروری سمجھا نہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر فار کے دلوں میں ایک گریدر تھی اور بجائے اس گند سے متاثر ہونے کے شریف طبقہ ایک تجسس کی نگاہ سے تمام حالات کو دیکھ رہا تھا اور اندرونی طور پر وہ ہم سے ہمدردی رکھتا تھا۔میں سمجھتا ہوں ان حالات میں مسلمانوں کے متعلق میری بطنی گناہ کا موجب تھی اور میں اللہ تعالے کا شکرادا کرتا 1