تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 544 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 544

۵۲۳ ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا اور مجھے اُن کی طرف سے رنج تھا۔شاید میرا گذشتہ سفر اللہ تعالے کی حکمت کے ماتحت اسی غرض کے لئے تھا کہ تا میری طبیعت پر جو اثر ہے وہ دُور ہو جائے۔میں نے اس سفر میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ میرا وہ اثر کہ مسلمان شرفاء بھی اس گند میں مبتلاء ہیں اس حد تک صحیح نہیں جین حد تک میرے دل پر اثر تھا۔مجھے اس سفر میں ملک کا ایک لمبا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے۔پہلے میں بندھ گیا۔وہاں سے بمبئی گیا۔بمبئی سے تیدرآباد چلا گیا اور پھر حیدر آباد سے واپسی پر دلی سے ہوتے ہوئے قادیان آگیا۔اس طرح گویا نصف ملک کا دورہ ہو جاتا ہے۔اس سفر کے دوران میں شعر فار کے طبقہ کے اندر میں نے جو بات دیکھی ہے۔اُس سے جو میرے دل میں مسلمانوں کے متعلق رینج تھا وہ بہت کچھ دور ہو گیا ہے۔اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ شریف طبقہ اب بھی وہی شرافت رکھتا ہے جو شرافت وہ پہلے رکھا کرتا تھا اور ان خیالات سے جو احرار نے پیدا کرنے چاہیے تھے وہ متاثر نہیں بلکہ ان کی گالیوں کی وجہ سے وہ ہم سے بہت کچھ ہمدردی رکھتا ہے۔اگر مجھے یہ سفر پیش نہ آتا تو شاید یہ اثر دیتک میرے ول پر رہتا۔اور میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالے کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے اس سفر کا موقع دیا اور وہ اثر جو میرے دل پر تھا کہ اتنے گند میں مسلمانوں کا شریف طبقہ کس طرح شامل ہو گیا وہ اس سفر کی وجہ سے دُور ہو گیا۔حیدر آباد میں میں نے دیکھا کہ جس قدر بھی بڑے آدمی تھے الا ماشاء اللہ۔تھوڑے سے باہر بھی رہے ہوں گے۔وہ اُن پارٹیوں میں شامل ہوتے رہے جو میرے اعزاز میں وہاں دی گئیں۔ان لوگوں میں وزراء بھی تھے ، امراء بھی تھے اور نواب بھی تھے۔چنانچہ نواب اکبر یار جنگ صاحب بہادر نے جو پارٹی دی اس میں بہت سے تو اب شامل ہوئے اور سارے سو دو سو کے قریب معززین ہوں گے جو اُن کی ٹی پارٹی میں شامل ہوئے۔اسی طرح دوسری جگہوں میں بھی میں نے دیکھا کہ شرفاء ، آفیسر نہ جھیز اور بڑے بڑے امراء ان دعوتوں میں شریک ہوتے رہے اور میں دیکھتا رہا کہ اُن کے دلوں میں یہ احساس ہے کہ احرار کی طرف سے ہم پر سخت مظالم توڑے گئے ہیں بلکہ بہتوں نے بیان بھی کیا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں جماعت احمدیہ مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے۔اسی طرح دہلی میں جو ایک دو تقریبات ہوئیں اُن میں میں نے دیکھا کہ شہر کے ہر طبقہ کے لوگ اور بڑے بڑے رؤساء شامل ہوتے رہے مسلمانوں میں سے زیادہ اور ہندوؤں اور سکھوں میں سے قلیل۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس شخص کے اعزاز میں کوئی تقریب پیدا کی بجائے گی اس میں وہی لوگ زیادہ بلائے