تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 543 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 543

۵۲۲ ہوئی اور درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے قریب مسجد نواب خال دوران میں حضور کا ایک گروپ فوٹو بھی کھینچی گیا جس میں حضور کے ہمراہ چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب ، شمس العلماء، خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی ، بند سروجنی نیڈ و وغیرہ عمائد و معززین موجود تھے۔خواجہ حسن نظامی صاحب کے بعد خان بہادر اکبر علی صاحب کے ہاں دعوت تھی جس میں بہت سے معہ زین شہر مدعو تھے۔حضور کی ان ملاقاتوں کا دہلی کے معززین پر خاص اثر ہوا۔اور کئی لوگ سلسلہ احمدیہ میں بھی داخل ہوئے ملے ۱۲۸ اکتوبر نہ کی شب کو حضور فرنیٹر میل سے روانہ ہوئے۔اسٹیشن پر الوداع کہنے کے دھلی سے روانگی امور لئے چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ، خان بہادر محمد سلیمان صاحب ، خان صاحب ایس سی حسنین ، شیخ رحمت اللہ صاحب انجنیر ، جناب جوش ملیح آبادی ، خان بہادر کے ایم محسن ، مشیخ اعجاز احمد صاحب سب حج ، چودھری بشیر احمد صاحب سب بحج ، چودھری نصیر احمد صاحب بی اسے ایل ایل بی ڈاکٹر ایس۔اسے لطیف صاحب اور احباب جماعت دعلی و شملہ محاضر تھے کہے قادیان میں تشریف آوری حضر امیرمومنین ولی سے روانہ ہوکر اگلے روز ۲۹ اکتو برسانے کوسے میں لیے خدام بخیریت دارالامان تشریف لائے ہے یہ سفر دور خلافت ثانیہ کے ان تمام مشہور اور کامیاب سفروں میں نمایاں اور تبلیغی نقطه نگاهت منفردشان رکھتا ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ سفر کے تاثرات خلافت کے دوران اندرون ملک میں اختیار کئے۔اور جن کے دائمی نقوش تبلیغی اور علمی دونوں اعتبار سے حضور کے قلب و دماغ پر زندگی بھر قائم رہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ نے تبلیغی نقطۂ نگاہ سے سفر حیدر آباد و دہلی کی نسبت حسب ذیل تاثرات کا اظہار فرمایا :- ” میرے دل پر ان گالیوں کی وجہ سے ایک ناخوشگوار اثر تھا جو احرار ایجی ٹیشن کی وجہ سے ہمیں ملتی رہی ہیں اور اب بھی مل رہی ہیں۔کیونکہ گالیاں فتح اور شکست سے تعلق نہیں رکھتیں۔بلکہ گرا ہوا آدمی زیادہ گالیاں دیا کرتا ہے۔بہر حال میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ مسلمانوں نے اس موقعہ پر ہمارے الفصل یکم نومبر ۱۹۳۹ ، صفحہ 1 کالم 1 ايضاً سے ايضا