تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 539
۵۱۸ آثار نظر آتے ہیں۔اس لئے اپنی جماعت سے بھی اور دوسرے فرقہ والے دوستوں سے بھی میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ ان حالات میں اتحاد و اتفاق کی قیمت کو سمجھیں اور اختلافات کو اپنی تباہی کا ذریعہ نہ بنائیں۔میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ایسے حالات میں سے گزر رہے ہیں جن میں جانور بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور لڑائی جھگڑے چھوڑ دیتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ چڑیاں آپس میں لڑتی ہیں لیکن جب کوئی بچہ انہیں پکڑنا چاہتا ہے تو لڑائی چھوڑ کر الگ الگ اُڑ جاتی ہیں۔اگر پڑیاں خطرہ کی صورت میں اختلاف کو بھول جاتی ہیں تو کیا انسان اشرف المخلوقات ہو کر خطرات کے وقت اپنے تفرقہ و اختلاف کو نظراندا نہیں کر سکتا ؟ مجھے افسوس ہے کہ مسلمانوں میں موجودہ وقت میں یہ احساس بہت کم پایا جاتا ہے۔اسلام حسین کی عظمت کو اس کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں اور حیس کی تعلیم کے ارفع و اسلئے ہونے کو مخالف بھی مانتے ہیں اس کی اشاعت و نصرت سے مونہ پھیر کر ذاتی اختلافات میں وقت ضائع کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔موجودہ خطرات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ مسلمان با هیمی اختلاف کو ایسا رنگ دیں جس سے اسلام کے غلبہ اور اس کی ترقی میں روک پیدا ہو سب مسلمانوں کا فرض ہے کہ پر چم اسلام کو بلند رکھنے کے لئے ہرقسم کی قربانی کریں جنوبی ہند میں ہمارے بزرگوں نے اسلام کی شوکت کو قائم کیا۔اس زمانہ میں ہمارا فرض ہے کہ اس عظمت کو دوبارہ قائم کریں اور اس کے لئے تمام مسلمانوں کی متحدہ کوشش نہایت ضروری ہے۔نہیں اس موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں تحریک کرتا ہوں کہ ہندوستان کے جنوب میں مرکز اسلام کی حفاظت کیلئے جملہ مسلمان مل کر کوشش کریں۔اللہ تعالئے ان کے ساتھ ہوا سے حضور انور کا یہ پیغام عام طور پر گہری دلچسپی سے پڑھا گیا۔جہد آبادی مسلمانوں کی ایک سیاسی انجین کے نوج رواں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ مسلمانوں کی آج کی مصیبت میں اگر کوئی کام دے سکتے ہیں تو وہ احمدی ہیں جو امام جماعت احمدیہ کے تحت پورے منظم اور حالات سے باخبر ہیں۔اس پیغام کے بعد ریل نے سیٹی دی۔حضور "اللہ اکبر" و "امیرالمونین زندہ باد کے فلک بوسی نعروں میں براستہ بلہار شاہ آگرہ کے لئے روانہ ہوئے۔بعض احتباب دور ایک جنکشن قاضی بیٹھ تک الوداع کہنے کے لئے آئے تھے۔جہاں حضور نے نماز مغرب و عشاء جمع کروا کر پڑھائیں۔ه الفضل دار نومبر ۹۳ در صفحه +