تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 538
۵۱۷ زنانہ میں بعض خواتین کی حضور نے بیعت لی پھر خان بہادر جناب احمد الہ دین صاحب اور بی۔اکا کا کارخان۔۔برف سازی اور اس کی مشینری کو ملاحظہ فرمایا۔اس کے بعد بعض حاضر الوقت خدام کی معیت میں حضور کا فوٹو لیا گیا۔بعد نماز مغرب حضور عازم سیشن نامیلی رحیدر آباد ہوئے۔والپیسی ت دنیای این نامی اضلاع کے میر حجاب وجود تھے بعض دوست ریاست میسور سے بھی حیدر آباد پہنچ گئے تھے۔ان کے علاوہ بغیر از جماعت مسلمانوں کا خاصہ مجمع بھی جوش و خروش کے ساتھ حضور کی ملاقات کے لئے بیتاب تھا مصافحہ کے لئے ایک پر ایک سبقت کر رہا تھا جب مجمع بے قابو ہونے کے درجہ تک پہنچنے لگا تو مولوی سیار بشارت احمد صاحب کی درخواست پر کنور نے ڈھا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور دیر تک مصروف دگا ر ہے۔اس کے بعد جناب اعظم علی خاں صاحب کو کمیل و معتمد نجمین اتحاد اسلمین ضلع پڑھنی نے جنہوں نے حضور کے اسٹیشن میں داخلہ کے وقت مسلمانان حیدر آباد کی جانب سے حضور کو پھولوں کے ہار زیب گلو گئے تھے خواہش کی کہ حضور اپنے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے مسلمانان حیدر آباد کے نام کوئی پیغام دیں۔حضرت امیر المومنین کا پی ام ا اس پر نور نے اپیل مین حیدر آباد پر ایک اہم پیغام دیا جو کا پیغام اس حضورنے اپیل میش وحید آباد پر اہم پیغام دیا حیدر آباد دکن کے تمام روزناموں میں بھی چھپ گیا تھا۔اخبار" رہبر مسلمانان حیدر آباد دکن کے نام ابن دو اکتو بر نے اس کا متن درج ذیل الفاظ میںشائع کیا۔۹۳ہ حضور نے فرمایا : یں آج اس بلدہ سے جا رہا ہوں۔ایک صاحب نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں اس وقعہ پر کوئی پیغام مسلمانان حسیبٹ آباد کے نام دوں۔اس مختصر سے وقت میں میں ایک ضروری بات کی طرف تمام احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔بہندوستان میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہے جیسے نہیں دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔اس جگہ کی حالت میں نے نمود کسی قدر دیکھی ہے اور بہت سے لوگوں کی زبان سے سنا ہے جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ کام جو ہمارے آباؤ اجداد نے اشاعت اسلام کے بارہ میں کیا تھا ، آج مسلمان اس سے غافل ہیں بلکہ اختلافات کا شکار ہورہے ہیں۔آج مسلمان قلمت میں ہیں۔اُن کے پاس اسباب نہایت محدود ہیں۔اور اُن کا مقابلہ کی لوگوں سے ہے جو بہت بڑی اکثریت رکھتے ہیں اور جن کی تعظیم نہایت اچھی ہے۔اگر ان حالات میں کبھی مسلمان یک جہتی سے کھڑے نہ ہوئے تو قریب زمانہ ہیں ان کی تباہی کے