تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 519
۵۰۲ غور سے توجہ فرما دیں۔بھرتی کے سلسلہ میں سارے ہندوستان کے خلاف احرار نے مخالفت کا جو بیڑا اٹھایا تھا۔اس پر جب حکومت نے ایکشن لیا اور چند احراری لیڈروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا تو حواریوں کی یہ حالت ہوئی کہ " سچ مچ اُن کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی سری قمیضیں اتر کر پھاڑ کر نالیوں میں پھینک دی گئیں اور آگ میں بھی ملا دی گئیں۔چنانچہ آج امر تسر میں ایک بھی شرخ قیں نظر نہیں آتی۔کئی گرفتار شدہ احراریوں نے تحریری معافی مانگ کو رسائی حاصل کی۔اور کئی جن کی پولیس تلاش کر رہی ہے، مغرور ہیں۔چوہدری افضل حق صاحب کی گرفتاری پر ہڑتال کا اعلان کیا گیا لیکن ایک دوکان بھی بند نہ ہوئی۔یہ ہے اتوار کی کامیابی کا ایک نمونہ۔اب یوں نظر آتا ہے کہ شہر امرت سر میں کبھی کوئی احراری تھا ہی نہیں اور نہ کوئی لال قمیص" المشتہر ارمین سنگھ عاجز ایڈیٹر اختبار زنگین امرتسر مٹی سے فصل چهارم ۱۹۳۸نہ کو یہ بھاری خصوصیت حاصل ہے کہ اس سال سے قادیان اور اُس قادیان کے ماحول میں سے مضافات میں تبلیغ پر خاص توجہ دی جانے لگی اور اس کے لئے چودھری کے زیر دست تبلیغی مهم انتم محمد صاحب سیال ناظرالے کی زیر نگرانی ضلع گورداسپور میں وسیع پیمانہ پر سر گرمیاں شروع کر دی گئیں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا تیلیغی مرکز سٹھیا لی اور دوسرا کلانوں اور تیسرا چودھر یوالہ میں قائم کیا گیا ہے اس کے بعد جگہ جگہ مراکز قائم کر دیئے گئے اور نگران اعلیٰ چودھری فتح محمد صاحب سیال کے ساتھ مولانا احمد خان صاحب نسیم تحصیل بٹالہ کے اور مولوی دل محمد صاحب تحصیل گورداسپور کے انچارج بنائے گئے۔اور دیہاتی مبلغین کے علاوہ جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلبیہ ملے کجواله "الفضل" ١٧ اکتوبر ۳ صفحه ۸ : ے" الفضل" ۲ مئی ۹۳اء صفحه ۶ : رپورٹ سالانہ صدر انجین احمدی ۱۳۷۳ اره صفحه ۶ :