تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 520
اور قادیان کے دوسرے مخلص اور سرگرم احمدی بڑی کثرت سے تشریف لے جانے اور گاؤں گاؤں میں پیغام ہو ریت پہنچانے لگے۔اس مہم میں آنزیری خدمت دین کرنے والوں میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت میر محمد الحق صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ له رکزیہ چودھری محمد ظفران را صاحب میاں نواب عباس احمدخان صاحب تم تبلیغ خدام الاحمدید اور چودھری نذیر احمد صاحب بھنگوان شناص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت سائبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب جو ان دنوں صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ تھے ، نہ صرف ضلع گورداسپور کے اکثر دیہات کے مجلسوں میں شرکت فرماتے تھے بلکہ دوسرے احمدیوں کوبھی باہر جانے کی مخصوصی تحریک کرتے تھے چنانچہ تبلیغ مقامی کی رپورٹ ۱۹۴۴ء کے مطابق اس سال آپ کی تحریک پر ۳۳ مجاہدین تبلیغ کے لیئے روانہ ہوئے۔تبلیغ مقامی کی توسیع کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب ، نواب محمد الدین صاحب سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سکندر آباد دکن ، میرزا مظفر احمد صاحب ، پیر اکبر علی صاحب ، شیخ اعجاز احمد صاحب سب بیج سیٹھ محمد اعظم صاحب ، نواب اکبر یار جنگ 19ء میں قادیان کی تبلیغ مقامی میں میں مبلغین مصروف عمل تھے۔بعض مقامی مبلغین کے نام۔مولوی احمد خان صاحب مولوی سید احمد علی صاحب ، مولوی عبدالرحیم صاحب عارف ، مولوی غلام احمد صاحب ارشد ، مولوی محمد منشی خان صاحب مولوی میر ولی صاحب ہزاروی ، حکیم اللہ بخش صاحب ، مولوی عبدالعزیز صاحب ، ماسٹر محمد رمضان صاحب، سید احمد شاه حوالہ رپورٹ صدر تضمین احمدیہ ۱۹۲۲۰۴ : صفحه (۵) : صاحب - نے رپورٹ سالانہ صبیحہ حیات صدر را نمین احمدیہ یکم مئی ۲ ماه لغایت ۳۰ اپریل ۱۹۳۷ از صفحه ۵۰۴ به کے شیخ یعقوب علی صاحب عرف نی نے اپنی کتاب سیرت ام المومنین حصہ دوم میں لکھا ہے کہ " صاحبزادہ عباس احمد خان سلم اللہ تعالے علاقہ سری گوبند پور میں تبلیغ کے لئے گئے ہوئے تھے۔ان کا ہیڈ کوارٹر ماڑی بچیاں نامی گاؤں میں تھا۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ یہ امیر ابن امیر کا نو نہال جو ناز و نعمت کے گہوارے میں پرورش پائے ہوئے تھا۔دھوپ کی بھی پروانہ کرتا ہوا گاؤں گاؤں شوق تبلیغ میں پھرتا رہتا تھا۔اور کبھی اگر کھانا نہ ملا تو صرف چنے چبا کر گزارہ کر لیا کرتا تھا۔یہ بات ایک ایسے گھرانے کے نونہال میں جو ہمیشہ متنعمانہ زندگی بسر کرنے کا عادی ہو نہیں پیدا ہو سکتی جب تک وہ خاندان اور خصوصا والدین ایک پاکیزہ زندگی گذارنے کے عادی نہ ہوں۔میاں عباس احمد کا یہ جذبہ اور یہ شوق خان محمد عبد اللہ خاں صاحب اور صاحبزادی امتہ الحفیظ صاحبہ کی اپنی ذاتی پاکیزگی اور دینداری کا نتیجہ ہے " له الفضل" جولائی ۱۹۳۵ء صفحه ۵ ؟ کالم دسیرت ام المومنین حصہ دوم صفحه ۴۹) رپورٹ سالانہ صدر انجین احمدیہ یکم مئی سنگه تا ۳۰ اپریل سالید و صفحه ۴ به