تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 518
جامعہ احمدیہ کے سٹان میں شامل ہو گئے یہ و تقریباً پانچ ماہ بعد حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کی ریٹائرمنٹ پر یکم مئی کو اس مرکزی درسگاہ کے پرنسپل مقرر کئے گئے جہاں آپ اپریل کہ ایک اس عہدہ پرف ٹور ہے۔آپ کے زمانہ میں جامعہ احمدیہ نے ہر لحاظ سے نمایاں ترقی کی۔آپ کے تربیت یافتہ بہت سے جامعی شاگرد اس وقت سلسلہ احمدیہ کی اہم خدمات دینیہ بجا لا رہے ہیں۔احرار کے پاؤں تلے سے زمین ) جماعت احمدیہ کے خلان شانہ کی ازاری شورش اور اس کے عبرتناک انجام کی تفصیل بعد فتم میں آچکی ہے۔اس مقام پر اس کا اعادہ کئے بغیر نکل جانے کا حیرت انگیز اعتراف صرف یہ بتانا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ۲۴ مئی ۹۳ یہ کو یہ پر جلال پیشگوئی فرمائی تھی کہ زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے" اس اہم آسمانی خبر کا پہلا ظہور شانہ کے حادثہ شہید گنج میں اور دوسرا ۱۹۳۷ء کے انتخابات میں ہوا جس کے بعد بھی متعدد ایسے حالات پیش آئے کہ ۱۹۳۳ء میں احرار کے موافق اور مخالف حلقے برملا پکار اٹھے کہ احرار کے پاؤں تلے سے واقعی زمین نکل چکی ہے چنانچہ اخبار" احسان (لاہور) نے اپنے د اکتوبر 9انہ کے شمارہ میں لکھا :- پنجاب والوں نے کانگریس کی تجاویزہ کا نہایت کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا۔شہید گنج کی تحریک جیسے احرار نے جو کانگریس کے اشاروں پر ناچتے ہیں، چھلایا تھا۔کچھ عرصہ تک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سکندری وزارت کی جوڑ میں کھوکھلی کردے گی۔لیکن سر سکندر نے انہیں انہی کے داؤں پہ مارا۔وہ ایک دلیرانہ بیان نے کر قوم کے سامنے آنے میں سے اتراریوں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور یہ ایسی تدبیر تھی کہ جس پر کانگریسی لیڈروں نے بھی انہیں مبارکباد کے تار بھیجے " شه اگلے سال شاہ میں ایک غیر مسلم صحافی ارجن سنگھ عاجز نے اشتہار دیا کہ تھوڑا عرصہ ہوا کہ مرزا بشیر الدین محمود امام جماعت مرزائیہ نے پیشینگوئی کی تھی کہ میں دیکھتا ہوں۔کہ استواریوں کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی جارہی ہے" یہ پیشین گوئی آج بالکل پوری ہو رہی ہے۔مخالفین الفضل ۲۹ نومبر ٩٣۶ او صفحه اکالم۔+ " ه " الفصل سرمئی ۹۳۹ه صفه ۰۲ + ے اس عرصہ میں آپ حضرت مولوی محمد الدین صاحب بی۔اے کے ریٹائر ہونے کے بعد ۳۰۱ اکتوبریانہ تک تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے (الفضل دار نومبر کاله وصفه (۵) سے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت " جلد ہفتم صفح ۵۳۷ کالم - ١٩٣٨م ھے اختیار " احسان " لاہور در اکتوبر ۱۳ بحواله" الفضل ۲۱ اکتوبر ۹۳ او صفر ۱