تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 517
۵۰ خدمت کرو گے تواللہ تعالے تم پر بھی اپنا افضل نازل کرے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔منه از بهر ما گریسی که ماموریم مقدمت برا یعنی میرے لئے گرمی مت رکھو کہ میں دنیا میں خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہوں۔اسی طرح تم بھی کرسیوں پر بیٹھنے کے متمنی نہ بنو بلکہ ہر سکین اور غریب سے ملو اور اگر تمہیں کسی غریب آدمی کے پاؤں سے زمین پر بیٹھ کر کانٹا بھی نکالنا پڑے تو تم اسے اپنے لئے فخر مجھو نبود تقویٰ حاصل کرو اور جماعت کے دوستوں سے مل کر ان کو فائدہ پہنچاؤ۔اور جو علم تم نے سیکھا ہے وہ ان کو کبھی سکھاؤ۔پس میں تم کو مل کر تربیت کرنے کے لئے کہتا ہوں۔جماعت میں بعض کمزور دوست بھی ہوتے ہیں۔اُن میں اسلام کی تحقیقی روح کا پیدا کرنا بہت ہی ضروری کام ہے۔جماعت کو علوم دینیہ سے واقف کرنا ، عرفان الہی کی منازل سے آگاہ کرنا ، مندمت خلق، محبت الہی اور اسلام کی حکمتوں کا بیان کرنا بہت بڑا کام ہے۔اسی طرح جماعت میں ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرنا بھی ایک ضروری کام ہے۔میر ایسے کام ہیں جن سے تم لوگوں کی نظروں میں معزز ہو جاؤ گے۔جماعت میں کئی آدمی اخلاق کے لحاظ سے کمزور میں ان کو اخلاق کی درستی کی تعلیم دو۔اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہو تحریک جماعت میں ہوتی ہے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے۔۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کی خدمت کر گئے تو اللہ تعالے کی طرف سے تم دوہرے اجر کے مستحق ہو گے۔قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے یہود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم اس دین کو قبول کر لو تو تم کو دوہرا اجر ملے گا اور اگر اعراض کرو گے تو پھر عذاب بھی دوہرا ہے۔پس تمہارا تعلیم کے بعد واپس آنا تم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔تم لوگوں کو احمدیت کی تعلیم سے روشناس کرانے کی کوشش کرو اور لوگوں کو سچائی کی تلقین کرو اور جماعت سے جہالت دور کرو اور اپنے فرائض کی طرف جلد سے جلد توجہ کرو۔میں اللہ تعالیٰ کے حضور تمہارے کسی کام نہیں آسکتہ ار سرین خدا کا رحم ہی ہے جو میرے کام بھی آسکتا ہے اور تمہارے کام میسی آپ کرتا ہے " ماه حر صاحبزاده حافظ مرزا ناصر احمد صا حضرت خلیفہ ربیع الثانی نے حضرت صاحبزادہ حافظا ر ا نا مر حوارات کی انگلستان سے واپسی کے بعد ان کو جامعہ احمدیہ کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے اہم کام پر مقرب فرمایا اور آپ ۲۷ نومبر سر سے جامعہ احمدیہ کے سٹاف میں ه الفضل و الريال من الوصفة الامر عدة