تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 503 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 503

۴۸۶ یہ معنے ہیں کہ باجماعت ادا کی جائے۔اچھی طرح وضو کر کے ادا کی جائے، ٹھہر کر سوچ کے اور معنوں پر غور کرتے ہوئے ادا کی جائے۔اور اس طرح ادا کی جائے کہ توجہ کلی طور پر نماز میں ہو اور یوں معلوم ہو کہ بندہ بندا کو دیکھ رہا ہے یا کم سے کم یہ کہ خدا سے دیکھ رہا ہے۔جہاں دو مسلمان بھی ہوں اُن کا فرض ہے کہ یا جماعت نمازہ ادا کریں بلکہ جمعہ بھی ادا کریں۔اور نماز سے قبل اور بعد ذکر کرنا نماز کا حصہ ہے۔جو اس کا تارک ہو وہ نمازہ کو اچھی طرح پکڑ نہیں سکتا اور اس کا دل نمازہ میں نہیں لگ سکتا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازوںکے بعد سنتیں ہنستین دفعہ سُبحان اللہ اور احمد للہ پڑھا احمدللہ جائے اور پوتین دفعہ اللہ اکبر۔یہ شو دفعہ ہوا۔اگرتم کو بعض دفعہ اپنے بڑے نماز کے بعد اٹھ کر جاتے نظر آئیں تو اس کے یہ معنی نہیں بلکہ وہ ضرورتاً اُٹھتے ہیں اور ذکر دل میں کرتے جاتے ہیں الاماشاء اللہ تعجب غیر ضروری نماز نہیں۔نہایت ضروری نمانہ ہے۔جب میری صحت اچھی تھی اور میں عمر کے تم اب ہو اس سے کئی سال پہلے سے خدا تعالیٰ کے فضل سے گھنٹوں تہجد ادا کرنا تھا۔تین تین چار چار گھنٹہ تک اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کو اکثر مد نظر رکھتا تھا کہ آپ کے پاؤں کھڑے کھڑے شوج جاتے تھے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسجد میں نماز کا انتظار کرتا اور ذکر الہی میں وقت گزارتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جہاد کی تیاری کرنے والا۔اللہ تعالے کسی کا رشتہ دار نہیں۔وہ لَیلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ہے۔اس کا تعلق ہر ایک سے اُس احساس کے مطابق ہوتا ہے جو اس کے بندے کو اس کے متعلق ہو جو اس سے سچی محبت رکھتا ہے وہ اُس کے لئے اپنے نشانات دکھاتا ہے اور اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔دنیا کا کوئی قلعہ کوئی فوج انسان کو ایسا محفوظ نہیں کر سکتا جس قدر کہ اللہ تعالے کی حفاظت اور اس کی امداد کوئی سامان ہر وقت میسر نہیں آسکتا لیکن اللہ تعالے کی حفاظت ہر وقت میسر آتی ہے۔پس اسی کی جستجو انسان کو ہوئی بہانے جسے وہ بل گئی اُسے سب کچھ مل گیا۔جسے وہ نہ ملی اُسے کچھ بھی نہ ملا۔زیادہ گفتگو دل پر زنگ لگا دیتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس میں بیٹھتے ستر دفعہ استغفار پڑھتے۔اسی وجہ سے کہ مجلس میں لغو باتیں بھی ہو جاتی ہیں اور یہ آپ کا فعل امت کی ہدایت کے لئے تھا نہ کہ اپنی ضرورت کے لئے۔جب آپ اس قدر احتیاط اس مجلس کے متعلق کرتے