تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 502
۴۸۵ اور میاں مبارک احمد صاحب بھی وہاں جارہے ہیں۔دونوں بھائی وہاں آپس میں بھی عربی میں بات چیت کریں گے وہاں کے علمی مذاق کے لوگوں سے بھی ملیں گے۔لائیبریریوں کو دیکھنے کا موقعہ بھی ان کو ملے گا۔اور اس طرح زبانِ عربی کے ساتھ مس اور ذوق پھر تازہ ہو جائے گا۔اس کے علاوہ مصر میں کاٹن انڈسٹری کے ماہرین موجود ہیں اور وہاں کپاس خاص طور پر کاشت کی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ اس کا بھی مطالعہ کریں" سے حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی نے صاحبزادہ صاحب کو اپنے قم مبارک حضر امیر المومنین کی تریں نصائح سے جو زریں نصائح لکھ کر دیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق میں حضور نے تحریر فرمایا کہ عزیزم مبارک احمد سلمک اللہ تعالے السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اللہ تعالے خیریت سے لے جائے اور خیریت سے لانے اور اپنی رضامندی کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔تمہارا سفر تو عربی اور زراعت کی تعلیم اور ترقی کے لئے ہے لیکن چھوٹے سفر میں اس بڑے سفر کو نہیں بھولنا چاہیے جو مہر انسان کو درپیش ہے۔جو نیل جرنیلوں کے املیہ مدبروں کے ، بادشاہ بادشاہوں کے حالات پڑھتے رہتے ہیں تاکہ اپنے پیش روؤں کے حالات سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اگر تم لوگ اہلبیت نبوتی کے حالات کا مطالعہ رکھو تو بہت سی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاؤ۔انسان کا بدلہ اس کی قربانیوں کے مطابق ہوتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یہ نہ ہو گا کہ لوگ تو قیامت کے دن اپنے عمل لے کر آئیں اور تم وہ غنیمت کا مال جو تم نے دنیا کا حاصل کیا ہے۔اسے میرے صحابہ تم کو بھی اپنے اعمال ہی لا کر بندا کے سامنے پیش کرنے ہوں گے اہلبیت نبوی کو جو عزت آج حاصل ہے وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہونے کے سبب سے نہیں بلکہ اپنی ذمداری کو سمجھ کر جو قربانیاں کی ہیں ، ان کی وجہ سے ہے۔تم اب بالغ جوان مرد ہو۔میرا یہ کہنا کہ نماز میں باقاعدگی چاہیئے ایک فضول سی بات ہو گی جو خدا تعالے کی نہیں مانتا وہ بندہ کی کب سُنتا ہے۔پس اگر تم میں پہلے سے باقاعدگی ہے تو میری نصیحت صرف ایک زائد ثواب کا رنگ رکھے گی اور اگر نہیں تو وہ ایک صدا بصحرا ہے۔مگر پھر بھی میں کہنے سے نہیں رک سکتا۔که نماند دین کا ستون ہے جو ایک وقت بھی نماز کو قضا کرتا ہے دین کو کھو دیتا ہے۔اور نماز پڑھنے کے نه "افضل" کار جولائی ۱۹۳۸ صفحه ۴ * +