تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 504
NAL تھے جو اکثر ذکر الہی پرمشتمل ہوتی تھی تو اس مجلس کا کیا حال ہو گا جس میں اکثر فضول باتیں ہوتی ہوں۔بید امور عادت سے تعلق رکھتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں ہمارے بچے جب بیٹھتے ہیں لغو اور فضول باتیں کرتے ہیں۔ہم لوگ اکثر سلسلہ کے مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے اس وجہ سے بغیر پڑھے ہمیں سب کچھ آتا تھا۔انسان کی مجلس ایسی ہونی چاہیے کہ اس میں شامل ہونے والا جب وہاں سے اُٹھے تو اس کا علم پہلے سے زیادہ ہو نہ یہ کہ جو علم وہ لے کر آیا ہو اُ سے بھی کھو کر چلا جائے۔م حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی یا اسلام کی تبلیغ کرتا دوسروں کا ہی کام نہیں ہمارا بھی کام ہے اور دوسروں سے بڑھ کر کام ہے۔پس سفر میں حضر میں تبلیغ سے غافل نہ ہوں۔رسول کریم فداه جسمی و روحی فرماتے ہیں۔تیرے ذریعہ سے ایک آدمی کو ہدایت کا ملنا اس سے بڑھ کر ہے کہ ایک وادی کے برابر تجھ کو مال مل جائے۔بنیادی نیکیوں میں سے سچائی ہے جس کو سچ بل گیا اُسے سب کچھ مل گیا۔جیسے سچ نہ ملا اس کے ہاتھوں سے سب نیکیاں کھوئی بھاتی ہیں۔انسان کی عزت اس کے واقفوں میں اس کے سچے کی عادت کے برابر ہوتی ہے۔ورنہ جو لوگ سامنے تعریف کرتے ہیں پس پشت گالیاں دیتے ہیں اور جس وقت وہ بات کر رہا ہوتا ہے لوگوں کے منہ اس کی تصدیق کرتے ہیں لیکن دل تکذیب کر رہے ہوتے ہیں۔اور اس سے زیادہ برا حال کیسی ہوگا کہ اس کا دشمن تو اُس کی بات کو رد کرتا ہی ہے مگر اس کا دوست بھی اس کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اس سے زیادہ قابل رحم حالت کس کی ہوگی۔اس کے بر خان نیچے آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے دوست اس کی بات مانتے ہیں اور اس کے دشمن خواہ منہ سے کذیب کریں لیکن اُن کے دل تصدیق کر رہے ہوتے ہیں۔انسانی شرافت کا معیار اس کے استغناء کا معیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا تمدن عينيكَ إِلى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ کبھی دوسرے کی دولت پر نگہ نہ رکھے اور کبھی کسی کا حسد نہ کرے۔جو ایک دفعہ اپنے درجہ سے اُوپر نگہ اُٹھاتا ہے اس کا قدم کہیں نہیں ٹکتا۔اگلے جہانتا میں تو اُسے جہتم ملے گی ہی وہ اس جہان میں بھی جہنم میں رہتا ہے۔یعنی حسد کی آگ میں جلتا ہے یا سوال کی غلاظت میں لوٹتا ہے۔کیسا ذلیل وجود ہے وہ کہ اکیلا ہوتا ہے تو حسد اس کے دل کو جلاتا ہے اور لوگوں میں جاتا ہے تو سوال اس کا منہ کالا کرتا ہے۔انسان اپنے نچلوں کو دیکھے کہ وہ کس طرح