تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 490
۔س کے نام عمارت کے لئے حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب نے آٹھ کنال کا قطعہ زمین بطور عطیہ دیا۔جس کی قیمت ان دنوں ڈھائی ہزار کے لگ بھگ ہوگی لیے نقشہ کی تیاری کے سلسلہ میں قاضی عبدالحمید صاحب اور قاضی محمد رفیق صادر نے گہری بچسپی کی یہ یہ عمارت مکمل ہوگئی تو بلیس کا دفتر جو گیسٹ ہاؤس میں کھلا ہوا تھا اس میں منتقل کر دیا گیا جو قادیان سے ہجرت دستہ تک قائم رہا۔۱۹۳۲ ء میں ملک عطلوال چین صاحب بنگالی بھجوائے گئے۔آپنے ڈیڑھ ماہ مہتمین کے دوروں کا آغاز ! ا تک تمام بڑی بڑی جماعتوں کا دورہ کر کے مجالس خدام الاحمدیہ کا قیام اور سابقہ مجاس کا احیاء کیا۔اسی سال چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور چوہدری فضیل احمد صاحب ناصر نے۔اسی احمد سندھ کی مجالس کا معائنہ اور احیا ر کیا ہیں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے الہام حسن بیان سے تفادل کے ساتھ۔سالانہ بریم حسن بیان کا قیام د و پریز هم حین بیان کا افتتاح کیا گیا۔یہ بزم تقریری مشق کے لئے قائم کی گئی تھی بیت الطارق کا اجراء جنوری ۱۹۳۵ء سے مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے الطارق" کے نام سے لڑکیوں کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا جس کی حیثیت مجلس کے گزٹ کی سی تھی جس میں صدر مجلس اور مہتمین مرکزنیہ کی طرف سے ضروری ہدایات و اطلاعات شائع ہوتی تھیں۔یہ سلسلہ پانچ نمبروں کی اشاعت کے بعد بند کر دیا گیا یہ ا مجلس احرار کے اخبار زمزم ۲۳ / جنوری ی این است این امیلی ها را دید کو خراج تحسین از اگر تم مجھے رپورٹ خدام الاحدید سال چهارم صفحہ ۳۷ - تعمیر دفتر میں نمایاں حصہ لینے والوں کے نام : سیٹھ عبد اللہ الدین شاپ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب شیخ محمود الحسن صاحب آئی سی۔ایس سیٹھ محمد اعظم صاحب د سیٹھ معین الدین صاب خانصاحب نعمت اللہ صاحب - ملک عبد الرحمن صاحب قصور - محمد الدین صاحب پال سیالکوٹ۔رپورٹ خدام الاحمدیه سال پنجمیم صفحه ۱۵ ه تذکره طبع دوم مثال والحكم جلد نمبر ۱۷ مورخه ۲۴ مئی ۲ ۲۵ انفضل ۲۶ جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ی کالم او ۲ انقضای یکم فروری ۱۹۳۵ و صفحه به کالم ۳ یہ قیاسا لکھا گیا ہے کیو نکہ دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے ریکارڈ میں الطارق کا پانچواں ٹریکٹ ہی موجود ہے۔