تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 491 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 491

۴۷۴ لکھا کہ بات یک ہم ہیں کہ ہماری کوئی بھی تنظیم نہیں اور ایک وہ ہیں کہ جن کی تنظیم در تنظیم کی نظمیں ہیں۔ایک ہم ہیں که آواره منتشر اور پریشان ہیں۔ایک وہ ہیں کہ حلقہ در حلقہ محدود محصور اور مضبوط اور منظم ہیں۔ایک حلقہ احمدیت کے اس میں چھوٹا بڑا ، زن ومرد بچہ بوڑھا ہر احمدی مرکز بوت پر مرکوز مجتمع ہے مگرتنظیم کی ضرورت اور برکات کا علم و احساس ملاحظہ ہو کہ اس جامع و مانع تنظیم پریس نہیں۔اس وسیع حلقہ کے اندر متعدد چھوٹے چھوٹے حلقے او بنا کر ہر فرد کو اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ہل نہ سکے۔عورتوں کی مستقل جماعت لجنہ اماءاللہ ہے۔اس کا مستقل نظام ہے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر اس کا جدا گانہ سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔خدام الاحمدیہ نوجوانوں کا جدا نظام ہے۔پندرہ تا چالیس سال کے ہر فر د جماعت کا خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا ضروری ہے۔افضل ل ا - چالیس سال سے - ۲۱ اوپر والوں کا ستقل ایک اور حلقہ ہے۔انصار اللہ جس میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان تک شامل ہیں۔میں ان واقعات اور حالات میں مسلمانوں سے صرف استقدر دریافت کرتا ہوں کہ کیا ابھی تمہارے جاگنے اور اٹھنے کا وقت نہیں آیا ؟ تم نے ان متحدہ مورچوں کے مقابلہ میں کوئی ایک بھی مورچہ لگایا ؟ حریت نے عورتوں تک کو میدان جہاد میں لاکھڑا کیا۔۔۔۔۔میرے نزدیک ہماری ذلت و رسوائی اور میدان کشاکش میں شکست و پانی کا ایک بہت بڑا سبب یہی غلط معیار شرافت ہے ہے۔۹۴۵ کے دلائل میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام پہلی دینیات کلاس میٹرک کا امتحان دینے والے طلباء کے لئے قادیان میں دینیات کواس کھوئی گئی جو ۰ ۲ اپریل ۱۹۳۵ء سے لے کرہ ارمئی ۹۲۵ یہ تک جاری رہی۔کلاس کے منتظیم مونی بشارت الرحمن صاحب ایم۔اے تھے اور نائب مولوی صدر الدین صاحب مولوی فاضل۔پڑہائی آٹھ بجے سے لیکر بارہ بجے تک تعلیم الاسلام کالج میں ہوتی تھی اور عام لکچر بعدنماز عصر سجد اقصی میں ہوتے تھے۔مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری۔مولوی نور الحق صاحب انور سلور موادی بشارت احمد صاحب سندھی نے قرآن مجید - صرف و نحو اور حدیث پڑھائی۔دینیات کلاس کے طلباء کو بعض دوسرے فاضل اصحاب کے علاوہ مندرجہ ذیل بزرگوں نے بھی خطاب فرمایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب ہیما چوری حضرت مولوی خیر الدین صاحب سیکھوائی حضرت سردار عبد الحمن صاحت سابق در نگاه حضرت مولوی شیر علی صاحب به اله زمینه معضل قادیان ما را بپریل ۱۹۴۵ و صفحه مه کانم ۳ - ۴