تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 25
ایک ایسی کمیٹی مقرر کر دی جائے کہ جو لوگ اعلی تعلیم دلانا چاہیں وہ لڑکوں کے نام اس کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں پھر وہ کمیٹی لڑکوں کی حیثیت، ان کی قابلیت اور ان کے رجحان کو دیکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں کو پولیس کے محکمہ کے لئے تیار کیا جائے۔فلاں کو انجنئیرنگ کی تعلیم دلائی جائے۔فلاں کو بجلی کے محکمہ میں کام سیکھنے کے لئے بھیجا جائے فلاں ڈاکٹری میں بجائے فلاں ریلوے میں جائے وغیرہ وغیرہ۔یعنی ان کے لئے الگ الگ کام مقرر کریں تاکہ کوئی صیغہ ایسا نہ رہے جس میں احمدیوں کا کافی دخل نہ ہو جائے دوسرے صوبوں میں یہ کمیٹی اپنی ماتحت انجمنیں قائم کرے جو اپنے رسوخ اور کوشش سے نوجوانوں کو کامیاب بنائیں۔اس کام کے لئے جو کمیٹی میں نے مقرر کی ہے اور جس کا کام ہوگا کہ اس بارے میں تحریک بھی کی ہے اور اس کام کو جاری کرے۔اس کے فی الحال تین ممبر ہوں گے جن کے نام یہ ہیں (۱) چودھری ظفراللہ خاں صاحب (۲) خانصاحب فرزند علی صاحب (۳) میاں بشیر احمد صاحب“ کے پندرھواں مطالبہ " وہ نوجوان جو گھروں میں بیکار بیٹھے روٹیاں توڑتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض بنا رہے ہیں۔انہیں چاہیے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جائیں۔۔۔۔جو زیادہ دور نہ بنانا چاہیں۔وہ ہندوستان میں ہی اپنی جگہ بدل لیں۔مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بعض نوجوان ماں باپ کو اطلاع دیئے بغیر گھروں سے بھاگ بھاتے ہیں۔یہ بہت بُری بات ہے جو جانا چاہیں اطلاع دے کر جائیں اور اپنی خیر و عافیت کی اطلاع دیتے رہیں " سلے سولھواں مطالبہ : - " جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔حضرت خلیفہ ربیع اول رضی اللہ عنہ میں بعض خوبیاں نہایت نمایاں تھیں بنضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اس مسجد میں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے میں چھوٹا سا تھا۔سات آٹھ سال کی عمر ہوگی ہم باہر کھیل رہے تھے کہ کوئی ہمارے گھر سے نکل کر کسی کو آواز دے رہا تھا کہ فلانے مینہ آ گیا ہے اوپہلے بھیگ جائیں گے جلدی آؤ اور اُن کو اندر ڈالو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ درس دے کو ادھر سے بہار ہے تھے۔انہوں نے اس آدمی سے کہا۔کیا شور مچا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ کوئی آدمی نہیں ملتا جو او پہلے اندر ڈالے۔آپ نے فرمایا تم مجھے آدمی نہیں سمجھتے۔یہ کہہ کر آپ نے ٹوکری لے لی اور ست "الفضل" و دسمبر انه صفه - اکالم و سے ایضا صفحہ ۱۰-۱۱ و که مسجد اقصی قاریان (ناقل)