تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 24
کے سلسلہ میں ان سے کام لیا جائے یا جو مناسب ہوں انہیں نگرانی کا کام سپرد کیا جائے “ لئے تیرھواں مطالبہ :- ”باہر کے دوست اپنے بچوں کو قادیان کے ہائی سکول یا مدرسہ احمدیہ میں سے جس میں چاہیں تعلیم کے لئے بھیجیں۔۔۔۔میرا تجربہ یہ ہے کہ یہاں پڑھنے والے لڑکوں میں سے بعض معین کی پوری طرح اصلاح نہ ہوئی وہ بھی الا ماشاء اللہ جب قربانی کا موقعہ آیا تو یکدم دین کی خدمت کی طرف کوٹے اور اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔یہ ان کی قادیان کی رہائش کا ہی اثر ہوتا ہے۔۔۔۔قادیان میں پرورش پانے والے بچوں میں ایسا بیج بویا جاتا ہے اور سلسلہ کی محبت اُن کے دلوں میں ایسی جاگزین ہو جاتی ہے کہ خواہ ان میں سے کسی کی حالت کیسی ہی ہو جب دین کی خدمت کے لئے آواز اٹھتی ہے تو اُن کے اندر سے لیک کی شہر پیدا ہو جاتی ہے الا ماشاء اللہ لیکن اس وقت میں ایک خاص مقصد سے یہ تحریک کہ رہا ہوں۔ایسے لوگ اپنے بچوں کو پیش کریں جو اس بات کا اختیار دیں کہ ان بچوں کو ایک خاص رنگ اور خاص طرز میں رکھا جائے۔اور دینی تربیت پر زور دینے کے لئے ہم میں رنگ میں اُن کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں۔اس کے ماتحت جو دوست اپنے لڑکے پیش کرنا چاہیں کریں۔ان کے متعلق میں ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے کہوں گا کہ انہیں تہجد پڑھانے کا خاص انتظام کریں۔قرآن کریم کے درس اور مذہبی تربیت کا پورا انتظام کیا جائے اور اُن پر ایسا گہرا اثر ڈالا جائے کہ اگر ان کی ظاہری تعلیم کو نقصان بھی پہنچ جائے تو اس کی پروا نہ کی جائے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی ظاہری تعلیم کو ضرور نقصان پہنچے اور نہ بظاہر اس کا امکان ہے لیکن دینی ضرورت پر زور دینے کی غرض سے میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی دینی تعلیم و تربیت پر وقت خرچ کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچ بھی جائے تو اس کی پروانہ کی بجائے اس طرح ان کے لئے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جو اُن میں نئی زندگی کی روح پیدا کرنے والا ہو“ ہے چودھواں مطالبہ : " بعض صاحب حیثیت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں اُن سے میں کہوں گا کہ بجائے اس کے کہ بچوں کے منشار اور خواہش کے مطابق اُن کے متعلق فیصلہ کریں۔۔وہ اپنے لڑکوں کے مستقبل کو سلسلہ کے لئے پیش کر دیں۔۔۔۔موجودہ حالات میں جو احمدی اعلیٰ عہدوں کی تلاش کرتے ہیں وہ کسی نظام کے ماتحت نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بعض میخوں میں احمدی زیادہ ہو گئے ہیں اور بعض بالکل خالی ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم ایک نظام کے ماتحت ہو۔اور اس کے لئے الفضل " و دسمبر سال ٠١٠ لے ایضاً کالم ۲۰۱