تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 403
خود بخود ان کی طرف سے لوکل اخبارات میں ختم نبوت کے متعلق مضامین شائع ہونے شروع ہو گئے۔ہماری طرف سے نہایت تفصیل سے جواب دیئے گئے۔۔۔۔۔۔۔مخالفین نے جماعت کی ترتی دیکھیکہ لوگوں کو یہ کہکر بد دل کرنا چاہا کہ اگر احمدیت میں صداقت ہے تو آئی مسلم کانگرس کے علماء کو پہلے قائل کیا جائے میں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھکہ کانگریس کے ایک جلسہ میں احمدیت کے متعلق لیکچر کے لئے وقت مانگا۔اگر چہ علماء نہ چاہتے تھے کہ حق ظاہر ہو۔مگر ان کے لئے انکار کر نا مشکل تھا۔چنانچہ میرے لئے ایک دن مقرہ کہ دیا گیا۔بفضلہ تعالی جملہ ما فی اُس دن جمع ہو گئے۔اور میں نے نہایت تفصیل سے دفات مسیح اور صداقت مسیح موعوداً پر بڑا گھنٹہ تک لیکچر دیا۔بدیں یہ لیکچر مرتب کر کے ایک اخبار میں بھی شائع کرا دیا گیا۔اس میں پیغامی فتنہ کا بھی تفصیل سے ذکر تھا۔-۔۔۔۔۔۔۔اب مخالفت اور بائیکاٹ کا ہتھیار استعمال ہونے لگا۔لیکن ہم نے ایک احمدی کے مکان پر ہفتہ وار لیکچروں کا سلسلہ جاری کر دیا اور پوسٹروں اور لوکل اخبارات کے ذریعہ لیکچروں کا اعلان کرتے رہے اور انفراد کی تبلیغ بھی بدستور ہوتی رہی - WiLBERFORCE MEMORIAL ہال میں بھی جو فری ٹاؤن کا سب سے بڑا اور شہو رہاں ہے۔چار لیکچر دیئے گئے۔اور دو دفعہ لوکل BROADCASTING سٹیشن کے ذریعہ ان لیکچر نیکی اعلان کر دیا گیا۔اسی طرح ایک عیسائی دوست کے مکان پر بھی ہفتہ وار لیکچروں کا سلسلہ جاری رہا۔علاوہ افریقین لوگوں کے شامی لوگ بھی بعض لیکچروں میں کثرت سے آتے۔اور سوالات کا جواب حاصل کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی کتاب استفتاء شاہی اصحاب کو پڑھنے کے لئے دی گئی۔اور سات کاپیاں فروخت بھی ہوئیں۔اسطرح احدیت حقیقی اسلام در تمد شهزاده ریز نهایت کرت سے فروخت کی گئیں۔اور پڑھنے کے لئے مارتیا دی گئیں۔حکومت کے اعلیٰ حکام کو شہزادہ ولیز کی پسند کا پیاں تحفہ دی گئیں، یہاں سے بعض لوگوں نے ہمارے مضامین جواب کے لئے لاہور بھیجے وہاں سے دو مضمون آئے۔اور لوکل اخبارات میں شائع ہوئے۔جن کا جواب ہماری طرف سے فوراً شائع کر دیا گیا ، غیر مبائع مولوی غلام نبی مسلم ہیں۔اے۔منشی فاضل 14 فروری مشاء کو یہاں پہنچے تھے۔مگر فضاء اپنے خلاف دیکھ کر اس قدر پریشان ہوئے کہ ۲۶ار مارچ مرد کو لاہور کر اجازت لئے بغیر بھی یہاں سے قرضہ لیکر ہندوستان واپس چلے گئے۔ہمارے پاس سانشاء سے لیکر تک کے انگریزی ریویو موجود تھے۔جن کے ذریعہ پیغامی منافقت طشت از بام ہو گئی حضرت