تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 402
میزبان سلمانان سیرالیون کی ایک جماعت مجھے تختہ جہاز پر چھوڑنے آئی۔یہ اہم اللہ۔میری روانگی سے قبل القدیم خیر الدین نے جو کئی بررسی سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کرتے رہے ہیں۔مگر بیعت نہ کی تھی۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔اور اسطرح سیرالیون کا واحد اعلی تعلیمیافتہ سمان احمد نی ہو گیا کہ اے حضرت نیز صاحب تو اس سفر کے بعد پھر کبھی سیرالیون تشریف نہیں لے گئے البتہ حکم منضار من است تین بار یہاں آئے اور کئی لوگ ان بزرگوں کے ذریعہ سے احمدی ہوئے۔جن میں سے بعض نائیجیریا پہلے گئے۔بعض فوت ہو گئے اور بعض الگ ہو گئے۔حتی کہ 1954ء میں سیرالیون میں اُس زمانہ کے صرف دو احمدی رہ گئے اور غیر مبائعین کے پراپیگنڈہ کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف سیرالیون کی فضا بہت مکدر ہو گئی۔امیون در تبلیغ ماوالا ان حالات میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ہم نے ء کے وسط میں دار التبلیغ گولڈ کوسٹ کو ہدایت فرمائی کہ مغربی افریقہ کے دوستر مالک میں بھی تبلیغی مراکز کھولے جائیں اور سالٹ پانڈ گولڈ کوسٹ) سے اُن کی نگرانی کی جائے۔اس پر اسے پہلے سیٹ الیون کی طرف متوجہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔صلہ کے مطابق مولوی نذیر احمد صاحب مبلغ انچارج مغربی افریقہ اس مولوی نذیر احمدرضا کی روانگی نے دارالتبلیغ گولڈ کوسٹ کا کام مولوی نذیراحمد صاحب مبشر کو سپرد کر کے اکتوبر د کوروانہ ہوئے اور ۱۳ اکتو بر تشدد کو سیرالیون کے دارالحکومت فری ٹاؤن میں پہنچے اور اس ملک میں دار التبلیغ کی بنیاد رکھی۔تبلیغ کے ابتدائی حالات مولوی نذیر احمد اس کا بیان ہے کہ اس یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ غیر مسائعین کے پراپیگنڈا کے اثر کے ماتحت فری ٹاؤن کے غیر حدیوں نے 4 پونڈ جمع کر کے اس مرض سے لاہور بھیجے ہوئے ہیں کہ وہاں سے ایک مبلغ ان کی امداد کے لئے بھیجا جائے۔میں نے یہاں آتے ہی پرائیویٹ ملاقاتوں کے ذریعہ جملہ غلط فہمیوں کو جو ہمارے خلاف پیدا کی گئی تھیں دور کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں بعض لوگ جماعت میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔مخالفین کے حوصلے اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ له - الفضل ۱۸ اپریل ۹۲۷ ره مه ہے۔الفضل مدار جنوری اور مرگ به