تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 401 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 401

۳۸۶ مجھے ایسی توفیق دی۔کہیں اس پر خود حیران تھا۔کنارہ بور پر موٹریں موجود تھیں۔ان میں سوار کہا جلوس نکال مجھے ایک خوبصورت مسجدمیں پہنچا یا گیا ، جہاں پندرہ اہزادہ سلمانوں کے قائمقام موجود تھے۔میں نے اپنے مشن کی اغراض زبان انگریزی میں بیان کیں۔استقبال کا شکریہ ادا کیا۔اور اخویم خیر الدین نے اس کا مقامی انگریزی میں (جو) کبوتر انگریزی PiCERN ENGLISH کہلاتی ہے ترجمہ کر کے حاضرین کو میرا مطلب سمجھایا اس کی جواب میں چیف القائیتی بوڑھے خاص امام نے میری آمد کو رسول اللہ کے بعد صلحین و مجددین کی آمد کے وعدہ سے مطابقت دیکر میرا شکریہ ادا کیا۔یہ 19 فروری کی صبح تھی۔ایک عالیشان انگریزی وضع کی فرودگاہ میں مجھے اتارا گیا۔اور ہرقسم کے آرام کا سامان بہم پہنچایا گیا ۲۰ فروری کو تقریروں کا انتظام کیا گیا۔اور اس کے لئے اطلاعات شائع کی گئیں۔مساجد آراستہ کی گئیں۔سرکارہ کی اسلامی مدارس میں بھنڈیاں وغیرہ لگا کہ ان کو مزین کیا گیا۔اور اپنے رنگ میں مسلمانوں نے اظہار خوشی کیا۔پہلے ایک مسجد میں 4 بجے پھر دوسرے مدرسہ میں بارہ بجے اور پھر شام کو تیرے مدرسہ میں 4 بجے تین تقریریں کی گئیں پہلے دو میں اوریم خیر الدین ترجمان رہے۔اور مرد و عورتوں نے ادب و احترام و محبت سے ان تقاریر کو شباه تقریر سے اول ایک نوجوان نے نہایت سریلی آواز سے نعتیہ اشعار عربی میں پڑھے۔ہر چارہ استعارہ کے بعد ایک مصرع سب حاضرین ایک آواز سے پڑھتے تھے۔مجیب سماں تھا۔ان مجالس میں رکشا کی سواری پر جانا ہوا۔سرخ عباء والے امام رکشا کے آگے اور سفید عبا پوش لوگ کشا کے پیچھے اور جوان طلباء دورویہ صف بستہ کھڑے نظر آتے تھے۔میں نے اپنی تقریروں میں برابر سے پاک کی آمد کا ذکر کیا۔اور آمنا کے سوا کوئی آواز مخالف نہیں سنی۔مالکی امام کو علیحدہ تبلیغ کی۔اس نے اقرار ایمان کیا۔شام کی تقریہ سیمی لوگوں کے لئے تھی۔اور وہ تو جہ سے سنی گئی۔چونکہ سیرالیون میں دو مسیحی کالچ ہیں۔و بشپ رہتے ہیں۔اور ۱۱۸ پادری قیام رکھتے ہیں۔اس سے مسیحی مجمع تعلیمیافتہ افریقیوں کا تھا۔تقریہ کے بعد سلسلہ سوالات و جوایات شروع ہوا۔اور مسلمان خوش اور سیمی منتظا کہ نظر آئے ۱۲۱۰ فروری کسی حکام سے ملاقات کر کے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کی طرف سرکا ر کو توجہ دلائی اور میں خوشی ہے اس امر کا اظہار کر تا ہوں۔کہ حکام بالا دوست نے میری حوصلہ افزائی کی۔۔۔مسلمانان سیرالیون کی خواہش تھی کہ میں اور ٹھہروں مگر جہانہ اور تاریخ کو تیسرے پہر روانہ ہونا تھا۔اسلئے ٹھہر ناممکن نہ تھا جہانوران کمپنی کے منیجر نے پوری کوشش سے جہاز پر وٹو فسٹ کلاس میں انتظام کر دیا۔اور میرے