تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 391
ور نظا ہر پراپیگینڈا سے اگر شرافت کی سند کے اندر ہوئیں نے کبھی نہیں روکا۔چنانچہ جو اشتہارات وہ بورڈوں پر پس پاس کرتے رہے ہیں ان کے متعلق کیا میں نے کبھی یہ اعلان کیا ہے کہ لوگ انہیں نہ پڑھیں ، بلکہ ایک دفعہ انہوں نے بورڈ پر اشتہار لگایا تو غالباً مولوی ابوالعطاء صاحب کی بیٹی مجھے آئی کہ لوگ اُسے پڑھنے کے لئے بہت جمع ہو گئے۔اور وہ اسے پڑھ کر غیظ و غضب سے بھر گئے جس سے فساد کا خطرہ ہے۔مناسب ہے کہ ایک اعلان کے ذریعہ لوگوں کو اس قسم کے اشتہارات پڑھنے سے روک دیا جائے مگر میں نے اس کا یہی جواب دیا کہ اس قسم کی مانعت میں پسند نہیں کرتا کیونکہ اس کے یہ معنی لئے جائیں گے کہ میں لوگوں کو تحقیق سے روکتا ہوں۔نہیں دلائل اور صحیح طریق تبلیغ کا مخالف نہیں ہوں۔میں تو خود ہمیشہ ہی حق کا متلاشی رہا ہوں اور دہی میری روح کی غذا ہے۔اگر وہ دلائل سے۔مجھ پر غالب آ سکتے ہیں تو شوق سے آجائیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔میرا اعتراض یہ ہے کہ وہ نا جائز کاروائیاں کرتے ہیں جو کیسی مذہب میں بھی بھائی نہیں۔اور چونکہ وہ تہذیب اور شرافت اور اسلامی احکام سے تجاوز کر کے ایسی حرکات کے مرتکب ہیں۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی جماعت کے احباب کو اُن کے ایسے تعلقات سے روکیں جو فساد کا موجب ہو سکیں۔یہی وجہ ہے کہ آج تک جس قدر احکام سلسلہ کی طرف سے اس قسم کے نافذ کئے گئے جن میں دوسروں سے بول چال کی ممانعت تھی تو وہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق تھے جن کے افعال میں سازش کا رنگ پایا جاتا تھا۔ورنہ اگر کسی کے افعال میں سازش نہ ہو اور وہ علی الاعلان ہم سے الگ ہو کر کسی اور گروہ میں شامل ہو جائے تو ہم اس سے کبھی بولنا منع نہیں کرتے۔غیر مبائین میں ہی آجکل کئی ایسے لوگ ہیں جو پہلے ہماری جماعت میں تھے مگر پھر بعد میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے لیکن ہم نے ان کے متعلق یہ اعلان نہیں کیا کہ ان سے کوئی شخص گفتگو نہ کرے۔ڈاکٹر سید محمد طفیل صاحب ، میاں غلام مصطفے صاحب ، مولوی محمد یعقوب صاحب ایڈیٹر۔میں لائٹ، یہ پہلے میری جیت میں شامل تھے مگر پھر غیر مب لعین کی طرف چلے گئے اور ہم نے ان کے مقاطعہ کا کوئی اعلان نہیں کیا۔بلکہ میں خود ان میں سے بعض سے ملتا رہا ہوں۔اسی طرح اور بھی کئی آدمی ہیں جو پہلے ہمارے ساتھ تھے پھر ادھر شامل ہو گئے۔مگر ہم نے کبھی لوگوں کو اُن سے ملنے سے نہیں روکا۔ہم صرف انہی سے تعلقات رکھنے ممنوع قرار دیتے ہیں جو سلسلہ کے نکات خفیہ سازشیں کرتے ہیں۔پنانچہ شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے اپنے خط میں تسلیم کیا ہے کہ وہ دو سال سے خفیہ تحقیق میرے خلاف کر رہے تھے اور اس بارہ میں لوگوں سے گفتگو کیا کرتے تھے۔اگر جس دن انہیں میرے متعلق شبہ پیدا ہوا تھا اور میرے خلاف انہیں کوئی بات پہنچی تھی اس دن وہ میرے پاس آتے اور کہتے کہ میرے دل میں آپ کے متعلق یہ شبہ پیدا ہو گیا ہے تو میں یقینا انہیں جواب دیتا