تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 390 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 390

کی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔اور خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ میں تیری مشکلات کو دور کروں گا اور تھوڑے ہی نه دنوں میں تیرے دشمنوں کو تباہ کر دوں گا “ تھے اسی تعلق میں یہ بھی بتایا کہ :۔اُن کے بعض دوستوں نے مجھے پیٹھیاں کبھی ہیں جن میں سے ایک نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ جو سلوک آپ ہم سے کر رہے ہیں کیا یہ بلیوں والا سلوک ہے یا غیر نبیوں والا۔ان کی مراد اس سلوک سے جہانتک میں سمجھتا ہوں وہ مقاطعہ ہے جو اُن کا کیا گیا ہے۔میں اس سوال کے جواب میں پوری دیانت داری کے ساتھ اس علم کی بناء پر جو خدا تعالے کی طرف سے مجھے حاصل ہے ، یہ کہتا ہوں کہ جو سلوک میں نے اُن سے کیا ہے وہ نبیوں والا سلوک ہے ، غیر نبیوں والا نہیں۔میں نے اُن کا کوئی بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ ان کی ضرورتوں کے پھرا کئے جانے کا حکم دے دیا تھا۔چنانچہ میری یہ ہدایت تھی کہ جو ضروریات زندگی سکھوں ، ہندوؤں اور غیر احمدی دکانداروں سے میسر نہ آسکتی ہوں وہ احمدی دکانداروں کی طرف سے دے دی جائیں۔لیکن چونکہ بعد میں انہوں نے بغیر ثبوت کے جماعت احمدیہ کی طرف مظالم منسوب کرنے شروع کر دیئے۔اور اس سے یہ خدشہ پیدا ہونے لگا کہ اگر کسی احمدی دکاندار سے وہ مثلا درد ہے جائیں اور اس سے اتفاقا اُن کے کسی بچہ کو قراقر ہو جائے یا مٹھائی سے پیٹ درد ہو جائے تو وہ یہ شور مچانا شروع کر دیں کہ ہمیں زہر ملا کر دیا گیا ہے اور اس طرح سماعت کے افراد کو بعض الزامات کے نیچے لائیں اس لئے میں نے اور عاصمہ کو حکم دیا ہے کہ ایسے دکاندار مقر کر دیئے جائیں جن سے وہ سودا لے سکیں لیکن خود انہوں نے اس حکم سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔اور میں آج بھی اس امر کے لئے تیار ہوں کہ اُن کی ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دکاندار مقدر کردون۔۔۔۔اس احتیاط کی اس لئے بھی ضرورت تھی کہ انہوں نے شروع سے ہی یہ طریقہ رکھا ہوا تھا کہ مخفی طور پر لوگوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتے تھے اور آخر میں تو انہوں نے اختیارات میں بھی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ مخفی طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے اور اُن کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے۔پھر صرف اعلان پر اس نہیں۔وہ مخفی طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں اب تک کو رہے ہیں۔اور اس کے یقینی ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔اور وہ ایسے واضح ثبوت ہیں کہ جب ان کو ظاہر کیا گیا۔تو اُن کے لئے ان باتوں کا انکار کرنا بہت مشکل ہو گا۔ایسی صورت میں ہمارا فرض تھا کہ ہم ان سے بول چال اور لین دین وغیرہ کے تعلقات رکھنے کے راستہ کو ایک قاعدہ کے ماتحت لا کر اس فتنہ کو دور کرتے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ احتیاطیں مخفی پروپیگنڈا کے متعلق تھیں۔له "افضل" ۳۰ جولائی کرو له الفضل ۲۰ نومبر ۹۳ و صفحه ۲۸۰