تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 392
اور اپنی طرف سے ان کو اطمینان دلانے اور اُن کے شکوک کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتا۔چنانچہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے دیانت داری سے اپنے شکوک پیش کر کے ان کا ازالہ کرنا چھانا اور میں ان پر ناراض نہیں ہوا۔بلکہ میں نے ٹھنڈے دل سے اُن کی بات کو مشٹنا اور آرام سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔اگر پہلے دن ہی جب انہوں نے میرے متعلق کوئی بات سُستی تھی میرے پاس آتے اور مجھے سے کہتے کہ میں نے فلاں بات سُنتی ہے مجھے اس کے متعلق سمجھایا جائے۔تو جس رنگ میں بھی ممکن ہوتا میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا۔اور گو تسلی دینا خدا کا کام ہے میرا نہیں۔مگر اپنی طرف سے میں انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا۔لیکن انہوں نے تقویٰ کے خلاف طریق اختیار کیا اور پھر ہر قدم تو انہوں نے اُٹھایا وہ تقوی کے خلاف اٹھایا۔چنانچہ جب انہوں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھ پر جماعت کی طرف سے کئی قسم کے مظالم کئے بیا رہے ہیں۔تو اس کی تحقیق کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا۔جس کے ممبر مرزا عبدالحق صاحب اور میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر تھے۔مرزا عبد الحق صاحب شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کے گہرے دوست تھے مگر انہوں نے مرزا عبدالحق صاحب کے متعلق کہ دیا کہ یہ خلیفہ کے اپنے آدمی ہیں۔اور انہیں چونکہ جماعت کی طرف سے مقدمات ملتے ہیں اس لئے فیصلہ میں وہ خلیفہ کی طرفداری کریں گے۔اور میاں عطا ء اللہ صاحب پلیڈر کہ وہ بھی ان کے دوستوں میں سے تھے، ان کے متعلق انہوں نے یہ کہا کہ مجھے ان کے فیصلہ پر اس لئے تسلی نہیں کہ ان کی مرزا گل محمد صاحب نے جو خلیفہ کے چچا کے بیٹے ہیں، ایک ضمانت دی ہوئی ہے۔اب اگر احمدیوں کے ایمان اتنے کمزور ہیں کہ ان میں سے کوئی اس لئے صحیح فیصلہ نہ کرے کہ مجھے جماعت کی طرف سے مقدمات ملتے ہیں ، اگر میں نے جماعت کے خلاف فیصلہ کیا تو مقدمات ملنے بند ہو جائیں گے۔اور کوئی اس لئے صحیح فیصلہ نہ کرے کہ میرے بچا کے بیٹے نے ان کی ایک ضمانت دی ہوئی ہے تو ایسے لوگوں کے اندر شامل رہنے سے فائدہ کیا ہے۔میں نے تو بہتات دیانت داری سے ان دونوں کو ان کا دوست سمجھے کہ اس فیصلہ کے لئے مقرر کیا تھا۔مگر انہوں نے اس کمیشن کے سامنے اس لئے اپنے مطالبات پیش کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ دونوں ہمارے زیر اثہ ہیں۔۔۔مصری صاحب کے اسی ساتھی نے نہیں کے خط کا ئیں اُوپر ذکر کر آیا ہوں، یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے سازش کر کے مستریوں پر کمانہ کروایا تھا۔پھر آپ نے سازش کر کے محمد امین کو قتل کروایا اور اب فخر الدین کو مروا دیا ہے اور اس کے بعد آپ ہمیں مروانے کی فکر میں ہیں۔مجھے اس قسم کے اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی۔کیونکہ ہر غلط النترام کا جواب دینے کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ اس کا فائدہ ہوتا ہے۔لیکن چونکہ خط لکھنے والے نے آیندہ