تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 389
پھر ایک اور سوال ہے جو شیخ عبد الآمن مصری کی طرف سے کیا گیا تھا اور آج بھی کیا جارہا ہے کہ خلیفہ محزون ہو سکتا ہے اور وہ اس بناء پر مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تجھے خلافت سے الگ ہو جانا چاہیئے یا یہ کہ با ت کو چاہیے کہ مجھے اس عہدہ سے الگ کر دے۔میں اس دعوی کے جواب میں بھی اسی قادر و توان خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کام ہے کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ باوجود ایک سخت کمزور انسان ہونے کے مجھے خدا تعالیٰ نے ہی خلیفہ بنایا ہے اور میں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے آج سے ۲۳۰۲۲ سال پہلے مجھے رڈیا کے ذریعہ یہ بتا دیا تھا کہ تیرے سامنے ایسی مشکلات پیش آئیں گی کہ بعض دفعہ تیرے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوگا کہ اگر یہ بوجھ علیحدہ ہو سکتا ہو تو اسے علیحدہ کر دیا جائے مگر تو اس بوجھ کو ہٹا نہیں سکیگا اوریہ کام تھے ہر حال بنانا پڑے گا اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالے کی مجھ پر لعنت ہو۔میں بھی خدا تعالے کی قسم کا کر کہو چکا ہوں کہ مں اس کا قائم کر دہ خلیفہ ہوں، وہ بھی ایسی ہی قسم لکھ کر شائع کر دیں پھر خود بخود فیصلہ ہو جائے گا کہ کون حق پرشیا در کون ناحق پر۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں اور اب پھر اللہ تعالیٰ کے وعید لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الكَاذِبین کے ماتحت کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے، میں اُس کا قائم کردہ خلیفہ ہوں اور میرے لئے عزل ہرگز جھاڑی نہیں اگر حوادث میرے سامنے آئیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں سے پتہ چلتا ہے کہ میرے لئے بعض اندھیرے مقدر ہیں۔اوراگر وہ ساری کی ساری جماعت کو بھی مجھ سے برگشتہ کر لیں۔توئیں یقین رکھتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ مجھے موت نہیں دے گا جب تک وہ پھر ایک زبر دست جماعت میرے ساتھ پیدا نہ کر دے۔دنیا میں فریب کاریاں بھی ہوتی ہیں۔دُنیا میں دھو کے بھی ہوتے ہیں۔دنیا میں وسوسہ اندازیاں بھی ہوتی ہیں۔دنیا میں ابتلاء بھی آتے ہیں۔اور ان تمام چیزوں کے ذریعہ لوگ ٹھوکریں کھاتے اور حق سے منحرف ہوتے ہیں۔مگر مجھے بندوں پر یقین نہیں۔مجھے اپنے خدا پر یقین ہے۔اس خدا نے اس وقت جبکہ مجھے خلافت کا خیال تک بھی نہ تھا، مجھے خبر دی تھی۔رات الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ کہ وہ لوگ جو تیرے متبع ہیں وہ تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔پس یہ صرف آج کی بات نہیں بلکہ جو شخص میری بیعت کا اقرار کرے گا وہ قیامت تک میرے منکروں پر غائب رہے گا یہ خدا کی پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی اور پوری ہوتی رہے گی۔اگر اس الہام کے سنانے میں میں جھوٹ بولتا ہوں تو خدا کی مجھ پر لعنت۔میری خلافت کے بارہ میں ایک بار نہیں۔دو بار نہیں۔اتنی بار خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔اب بھی جب یہ فتنہ اُٹھا تو میں نے جلدی نہیں