تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 388 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 388

۳۷۵ حضر خلیفہ اسیح الثانی کیلوں سے آرم مولوی عبدار کسی صاحب بصری نے خدا تعالی سے ہائی ہے عورت کو کس نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے خلاف عداوت اور شمنی کی حد کر دی مگر حضور ر شوکت حلفیہ بیان نے ان کی تسلی کے لیے سموں کا اعلان کر کے ان پر پرنگ میں وقت نام کردی چنانچہ حضور نے ۱۲ نومبر ۹۷ نر کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- وہ مجھے کہتے ہیں کہ اگر وہ الزامات جو وہ مجھ پر لگاتے ہیں، جھوٹے ہیں تو میں مؤکد بعذاب قسم کھاؤں حالانکہ مستریوں کے مقابلہ میں بھی میں نے کہا تھا اور اب بھی میں کہتا ہوں کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کے امور کے لئے جن کے متعلق حدود مقرر ہیں اور گواہی کے خاص طریق بنائے گئے ہیں، قسموں وغیرہ کا مطالبہ جائز نہیں۔بلکہ ایسے مطالبہ پر قسم کھانا بھی اس حکمت کو باطل کر دیتا ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے ہاں جس پر الزام لگایا گیا ہو حضرت سیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُسے اختیار ہے کہ جب وہ مناسب مجھے الزام لگانے والے کو مباہلہ کا چیلنج دے لیکن چونکہ وساوس و شبہات میں مبتلا رہنے والا انسان خیال کر سکتا ہے کہ شاید میں نے قسم سے بچنے کے لئے اس قسم کا عقیدہ تراش لیا ہے اس لیے کم سے کہ اس شخص کی تسلی کے لئے جو جانتا ہے کہ جھوٹی قسم کھا کر کوئی شخص اللہ تعالے کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔یک کہتا ہوں کہ میں اس خدائے قدور و توانا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس کی چھوٹی قسم کھا کر شدید لعنتوں کا انسان مورد بن جاتا ہے کہ میرا یہ یقین ہے کہ قرآن کریم کی اس بارہ میں وہی تعلیم ہے جوئیں نے بیان کی ہے۔اور اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو اللہ دینے کی مجھ پر لعنت ہو۔ے یہاں حضرت خلیفت مسیح الثانی کی ایک رویا لکھنا مناسب ہوگا۔حضور نے فرمایا۔" میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی عبد الامین صاحب مصری کا ذکر آیا ہے اور میرے دل میں ان کے لئے دعا کی تحریک بڑے زور سے ہوئی ہمیں اس وقت چار پائی پر قبلہ رخ بیٹھا تھا، فورا مجھے میں گر گیا اور نہایت عاجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ہدایت دے۔اس دُعا کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ دعا قبول ہو گئی ہے۔اس پر میں نے سجدہ سے سر اٹھایا اور میرے دل میں یقین تھا کہ اب شیخ صاحب کچھے ہوئے وہاں پہنچ گئے ہوں گے نہیں نے دائیں اور بائیں دیکھا لیکن وہ نظر نہیں آئے میں ٹہل رہا ہوں کہ اتنے میں شیخ صاحب وہاں آگئے اور عقیدت کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ تائب ہو گئے ہیں" (الفضل اور مارچ ۱۲ صفحه ۲ کالم ۱-۲ ) قطع نظر اس کے کہ اس خواب کی اصل تعبیر کیا ہے ، یہ حقیقت بالکل نمایاں ہے کہ حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی کے قلب صافی میں مصری ص کے لیے زاتی طورپر ہمیشہ محبت کے جذبات موجزن رہے۔ولعل الله يحدث بعد ذالك امراء * 4 * * *