تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 341 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 341

۳۲۸ جاری کرنے پر مجبور ہوگا۔بادشاہ آخر کیا ہوتا ہے ؟ ملک اور قوم کا خادم - اور خادم اپنے آقا کیلئے جان دی اہی کرتے ہیں۔ایڈورڈ نے اپنی قربانی دیکر آئندہ عمارت کی پہلی اینٹ مہیا کی ہے۔اسکے بعد دوسری اینٹیں آئیں گی۔اور ایک نئی عمارت تیار ہو گی جسپر انگلستان بجا طور پر فخر کر سکیگا۔خدا تعالی بہتر جانتا ہے کہ شاہ ایڈورڈ کے آخری ایام حکومت میں اُن کے خیالات کی کہ وکس طرف کو ہار رہی تھی لیکن جو کچھ ، اقعات سے سمجھا جا سکتا ہے۔وہ یہی ہے کہ وہ خیال کرتے تھے کہ مجھے اپنے ملک کے مذہب ہے پوری طر یا جزوی طور پر اختلا ہے۔بعض بڑے پادریوں کو مجھ سے شدید اختلاف پیدا ہوچکا ہے۔جب وہ ایک ایسے امر سے مجھے روک رہے ہیں جس کی قانون اجازت دیتا ہے تو کل وہ مجھ سے اور کیا کچھ مطالبہ نہ کریں گے۔اس وقت ملک میں کے ساتھ ہے۔ممکن ہے کل کوئی ایسا سوال پیدا ہو کہ ملک بھی میر ہے خلاف ہو۔پھر ان حالات میں کیوں ملک کی ایک اقلیت کی خاطر میں اپنے وعدہ کو ترک کر دں اور ایک عورت کو دنیا بھر میں اس الزام سے مطعون کروں کہ دیکھو یہ عورت ہے جس سے ایڈورڈ نے اس وجہ سے شادی نہ کی۔کہ وہ مطلقہ تھی۔پس کیوں نہیں اس جھگڑے کا آج ہی خاتمہ کر دوں اور ملک کو آئندہ فساد سے بچائوں۔اس کے برخلاف وہ پادری جو سابق بادشاہ کی مخالفت کر رہے تھے ان کے خیالات کی کہ وہ علوم ہوتی ہے که بادشاہ مذہب عیسویت سے متنفر معلوم ہوتا ہے۔آج موقعہ ہے۔آئرلینڈا اور کینیڈا کیتھول کپ مذہب کے زور کی دہر سے مسئلہ طلاق میں تعصب رکھتے ہیں۔اگر اس وجہ سے ہم بادشاہ کا مقابلہ کریں جن دو نتائج کے نکلنے کا امکان ہے۔دونوں ہمارے حق میں مفید ہونگے۔اگر بادشاہ دب گئے تو آئندہ کو ہمارا رعب قائم ہو جائے گا۔اور اگر بادشاہ تخت سے الگ ہو گئے۔تو ہمارے راستہ سے ایک روگ دُور ہو جائے گی۔خیالات کی ان دونوں کروؤں کا مقابلہ کر لو۔اور پر سوچ لوکہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ آہ ایڈورا بہت پر) کس قدر افسوس ہے۔آہ کسی قدر افسوس ہے یا یہ کہنا درست ہے کہ ان پادریوں پر جنہوں نے ایسے حالات پیدا کرد ئے کہ ایک خادم قوم اور مخلص بادشاہ کو با وجود اسکے کہ قانون اس کے حق میں تھا، تخت سے علیحدہ ہونا پڑا۔افسوس ہے۔آہ کس قدر افسوس ہے۔خلاصہ یہ کہ بادشاہ کے ساتھ بعض لوگوں کا انگلستان کا نہیں، جھگڑانہ نہیں تھا جو بعض ناواقف لوگ سمجھتے ہیں بلکہ مذہب اور قانون کے احترام کا جھگڑا تھا۔بادشاہ اپنے منفرد مذہب پر