تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 340 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 340

۳۲۷ حقائق پر پردہ ڈالنے کیلئے اسے محض عورت سے محبت ہی کار یہ عمل بتایا جس سے متاثر ہو کر اخبار الفضل نے 19 دسمبر ہ میں ایک افتتاحیہ بھی شائع کر دیا۔مگر چونکہ اصل حقائق یہ نہیں تھے۔اسلئے حضرت خلیفة المسیح الثانی نے حکومت برطانیہ کے اس تازہ انقلاب کا حقیقی پس منظر بتا نے کیلئے ایک مفصل مضمون ۲۰ دسمبر ۹۳۶ائر کو لکھا جو الفضل ۲۲ دسمبر ۱۹۳۷ء میں شائع ہوا۔مضمون کے آخر میں حضور نے تحریر فرمایا کہ :۔اس واقعہ سے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔اور آپ پر لگائے جانے والے اعتراضوں میں سے ایک اعتراض دور ہوا ہے۔پیشنگوئی تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علی الصلوة و السلام کے زمانہ میں عیسائیت آپ ہی آپ چھلنی شروع ہو جائے گی۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ مسیحیت کی نمائندہ حکومت میں یعنی دنیا کی اس واحد حکومت ہیں جس کے بادشاہ کو محافظ عیسائیت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ایسے تغیرات پیدا ہورہے ہیں کہ اس کے ایک نہایت مقبول بادشاہ نے مسیحیت کی بعض رسوم ادا کرنے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ وہ ان میں یقین نہیں رکھتا۔اور اعتراض جس کا ازالہ ہوا ہے یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ عليه واله وسلّم نے طلاق کو جائز قرار دیا۔اور مطلقہ عورتوں سے شادی کی کیونکہ دنیا نے دیکھ لیا کہ طلاق کی ضرورت اب اس شدت سے تسلیم کی جاتی ہے۔اور مطلقہ عورت کی عزت کو جبکہ دما اخلاقی الزام سے منتہی نہ ہو اس صفائی سے تسلیم کیا جاتا ہے کہ بادشاہ اس سوال کو حل کرنے کے لئے اپنی بادشاہت تک کو ترک کرنے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ایک برطانوی مسلمان کا دل اسوقت کس طرح خوشی سے اچھل رہا تھا جبکہ وہ گذشتہ واقعات کو پڑھتے ہوئے یہ دیکھتا تھا کہ عیسائی کے خلاف وہی نہیں بلکہ اس کا بادشاہ بھی لڑ رہا ہے۔اوراسلام کے کمینہ دشمن کے اعتراض کو وہی دور نہیں کر رہا بلکہ اس کا مسیحی کہلانے والا بادشاہ بھی اس اعتراش کی لغویت ثابت کرنے کے لئے اپنے تخت کو چھوڑنے کو تیار ہے۔پادری سمجھتے ہیں کہ وہ اس جنگ میں کامیاب رہے ہیں لیکن ایڈورڈ کی قربانی ضائع نہیں جائینگی کیونکہ وہ پیشگوئیوں کے ماتحت ہوئی۔یہ بیج بڑھے گا۔اور ایک دن آئے گا کہ انگلستان نہ صرف اسلامی تعلیم کے مطابق طلاق کو جائز قرار ے گا بلکہ دوسرے مسائل کے متعلق بھی وہ اسلامی تعلیم کے مطابق قانون