تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 342
اصرار کرتے تھے۔اور پادری قومی مذہب پرہ۔حالانکہ قومی مذہب مذہب نہیں۔سیاست ہے، جبکہ اس کا اثر اصولی مسائل پر بھی پڑتا ہوں اور بادشاہ قانون کا احترام کرتے ہوئے قانون پر عمل کرنے کو تیار تھے لیکن اُن کے مخالفوں کا یہ اصرار تھا کہ یہ قانون دکھاوے کیلئے ہے عمل کرنے کے لئے نہیں۔قانون طلاق کی اجازت دیتا ہے مگر مذ ہب نہیں۔بادشاہ چونکہ مسیحیت کے گلی طور پر بائیز وی طور پر قائل نہ رہے تھے۔انہوں نے قانون پر زور دیا۔جو اُن کی ضمیر کی آواز کی تصدیق کرتا تھا۔اور آخر ملک کو فساد سے بچانے کے لئے تخت سے دست برداری دے دی۔بعض احباب جو ایک حد تک واقعات کی تہ کو پہنچے ہیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں۔زندہ باد ایڈورڈ۔یہ بھی درست ہوگا گر میں تو ان حالات کے محرکات کو دیکھتے ہوئے یہی کہتا ہوں۔محمد زنده باد ! زندہ باد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم " لے مولوی محمد علی صاحب کے مباحثہ کی ناب برای محمد علی صاحب میرا نام ام دی اشاعت اسلام مولوی احمد لاہور) نے اخبار پیغام صلح ( 19 نومبر ۱۹۳۶ء میں اس خواہش کا ۱۹۱ واضح دعوت اور ان کا گرین ایا اور ایمان لایا اسی انانی نه ناقل خوداپنی وقتہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ کن بحث کے لئے قدم اُٹھائیں" اس پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مولانا ابوالعطا صاحبت ارشاد فرمایا کہ: میری طرف سے اعلان کر دیں کہ میں خود مولوی محمد علی صاحب سے نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بحث کروں گا۔انہیں چاہیئے کہ اس کے لئے فریقین کے حق میں مساوی شروط کا تصفیہ کرلیں۔بحث یکیں خود کروں گا۔انشاء اللہ مولانا ابو العطاء صاحب نے اور دسمبر شاہ کو حضور کا یہ اعلان ایک مفصل نوٹ اور علی فلم کے ساتھ الفضل میں شائع کرا دیا۔اس کے چند روز بعد حضرت امیر المومنین نے اپنے قلم سے مزید وضاحتی تقریر لکھدی کہ: یکی تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے مولوی ابو العطاء صراحت سے کہا تھا کہ میں مسئلہ نبوت میں مولوی محمد علی صاحب سے خود مباحثہ کرنے کو تیار ہوں۔آپ ان سے شرطیں لئے کریں۔سو معقول شرائط جن میں کوئی لغویت یا ه الفصل ۲ دسمبر ۹۳۷ دو صفحہ ۴۲ و۵۔اس عنوان کے تحت مندرج سب حمالات الفضل دسمبر 11ء سے ماخوذ ہیں :