تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 338
۳۲۵ اُن کی آنکھیں ملک اٹھیں اور ان کے بہن تیز ہو جائیں؟ اے حضور نے مندرجہ بالا دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے احباب جماعت کو یہ بھی تلقین فرمائی کرے :- ہ سال میں سے کم از کم ایک دن تم خدا تعالے کے سامنے اپنے گناہوں پر روڈ اور خوشی کی چیز اس سے کوئی نہ مانگو۔اُس سے روپیہ نہ مانگو۔اس سے پیسہ نہ مانگو۔اس سے دولت نہ مانگو۔اس سے صحت نہ مانگو۔اُس سے فرضوں کا دور ہونا نہ مانگو۔اس سے اعزاز نہ مانگو۔اس سے اکرام نہ مانگو پھر ہی مانگو کہ خدایا تیرا فوتام ہمیں حاصل ہو۔اور تو بہ تصوح ہمارے لئے میسر ہو جائے۔اس کا کو مختلف رنگوں میں مانگو۔مختلف طریقوں سے مانگو۔مختلف الفاظ میں مانگو۔اپنے لئے مانگو۔اپنی بیویوں کے لئے مانگو۔اپنے بچوں کیلئے مانگو۔اپنے دوستوں کیلئے مانگو۔اپنے ہمسائیوں کیلئے مانگو۔اپنے شہر والوں کے لئے مانگو۔اور پھر ساری جماعت کے لئے مانگی۔اگر چیز ایک ہو۔بات ایک ہو۔رنگ ایک ہو کر ایک ہو۔تال ایک ہو۔اور جو کہو اس کا خلاصہ یہ ہو۔ہم تیرا عضو تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔یہیں اس حضو سے مانگو۔اس خضار سے مانگو۔اُس ستار سے مانگو۔اس تو اب سے مانگو۔اور اگر تم اس سے رحمانیت مانگو۔تواسی لئے کہ انہیں اپنا عفو نام اور توبہ نصوح ہے۔او راگر جمعیت مانگو تو بھی اسی لئے کہ وہ نہیں اپنا حقوق تام اور توبہ نصوح دے یا لے ایڈورڈ ہشتم کی تخت شاہی دستبرداری یا شاہ ای اور ہشتم نے سیم تاجپوشی کی تقریب پر مذہبی ایڈورڈ سوم کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا جسپر آرچ بشد آن رسوم حضرت امیر المومنین کے تاثرات کٹر بری اور مذہب سے دلچسپی رکھنے والے برطانیہ کے بعض دوسے مذہبی خیال کے وزراء بھی اس تقریب میں شمولیت سے دستکش ہو گئے۔بشپ بریڈ فورڈ نے کہا کہ بادشاہ کو مذہب کی طرف زیادہ تو تب کرنی چاہیے۔یہ اندرونی کشمکش اندر ہی اند ر جاری تھی کہ بادشا معظم نے ایک مطلقہ خاتون مسٹر سمپسن سے شادی کرنا چاہتی تو برطانوی نظام کلیسا میں سخت زلزلہ برپا ہوگیا۔اور پادریوں نے شور مچا دیا کہ بادشاہ کا فعل ہم برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ جس عورت کا پہلا خاوند زندہ ہو وہ ہماری ملکہ کیونکر ہوسکتی ہے۔بعض نادانوں نے تو یہانتک کہا کہ بادشاہ چاہیں تو پرائیویٹ تعلقات اس خوریت سے رکھ سکتے ہیں۔لیکن شادی کر کے مطلقہ عورت کو عزت بخشنا اُن کے لئے بھائز نہیں۔در اصل یاد شاہ کو یہ یقین ہو چکا تھا کہ اگر تخت پر رہتے ہوئے میں نے شادی کی تو ملک میں فساد ضرور ہوگا۔ه الفضل ۱۳ر دسمبر سماء صفحه ، کالم ۲۰۳ به ۵۴ الفضل مودار و کمبر دو صفحہ ہ کا ظلم و در وسیم نے