تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 339
۳۲۶ کو اکثریت نہ رے ساتھ ہوگی لیکن پھر بھی ایک زبر دست اقلیت مقابلہ پر کھڑی ہو جائے گی۔اور اسی طرح بعض تو آبادیاں بھی شورش پر آمادہ ہو جائیں گی۔بادشاہ نے آخری جد و جہد مید کی کہ وہ راجہ سے کہ دیا کہ آپ لوگوں کو ایک مطلقہ عورت کے بلکہ ہونے پر ہی اعتراض ہو سکتا ہے۔سو میں اس کیلئے بھی تیار ہوں کہ ایک خاص قانون بنا دیا جائے کہ میری بیوی ملکہ نہ ہو گی۔لیکن وزار نے اس سے بھی انکار کیا۔پس صورتِ حالات یہ پیدا ہو گئی کہ ایک طرف تو اس مشکل کا واحد حل کہ بادشاہ کی بیوی ملکہ نہ ہو۔وزارت نے مہیا کرنے سے انکار کردیا۔دوسری طرف بادشاہ دیکھ رہے تھے کہمیرے سامنے دو چیز ہیں ہیں۔ایک طرف ملک نہیں بلکہ ملک کی ایک اقلیت کی خواہش کہ ایک مطلقہ عورت سے شادی نہیں کرنی چاہیئے۔اور دوسری طرف یہ سوال کہ ایک عورت جو مجھ سے شادی کیلئے تیار ہوا ورجب سے شادی کا ئیں وعدہ بھی کرچکا ہوں۔اس کو اس جیسے چھوڑ دوں کہ چونکہ تو مطلقہ ہے اس لئے میرے ساتھ شادی کے قابل نہیں۔ایک طرف ایک اقلیت ہے جسے قانون کوئی حق نہیں دیتا۔اور دوسری طرف ایک ایسے وجود کو زیر الزام لاکر چھوڑنا ہے جسے قانون شادی کا حق بخشتا ہے۔یقیناً ایسی صورت میں بادشاہ کے لئے ایک ہی راستہ کھلا تھا کہ وہ اُس کا ساتھ دیتے جس کے ساتھ قانون تھا لیکن چونکہ ایسا کرنے میں ملک میں فساد کا اندیشہ تھا۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یکیں اُس عورت کی بے عزتی نہیں ہونے دوں گا جب سے میں نے وعدہ کیا ہے۔اور مکیں ملک میں فساد بھی نہیں ہونے دوں گا۔پس ان دونوں صورتوں کے پیدا کرنے کے لئے میں وہ قدم اٹھاؤں گا جس کے اُٹھانے کے لئے غالباً بہت سے لوگ تیار ہو نگے۔یعنی میں بادشاہت سے الگ ہو کر ملک کو فساد سے اور اپنی ہونے والی بیوی کو ذرکت سے بچائوں گا۔اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔برطانوی بادشاہ ملکی قانون و آئین کے اعتبار سے محافظ عیسائیت (DEFENDER OF FAITH) تسلیم کیا جاتا ہے۔لہذا تابعدار برطانیہ کی دستبرداری کے اس واقعہ سے اردسمبر کو ہونا نہ صرف انگلستان میں بلکہ دنیا بھر کی برطانوی مقبوضات میں ایک تہلکہ مچ گیا اور آپ پہ بشپ آف کنٹر شہری نے اس اے چنانچہ آرچ بشپ آف کنٹر بری نے ایڈ در ڈہشتم کی دستبرداری کو اصول کی بجائے محض ذاتی خوشی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا۔ایڈورڈ ہشتم کو خدا کی طرف سے ایک اعلیٰ اور مقدس امانت لی تھی۔مگر انہوں نے پیا مانت دوسروں کے حوالہ کر دینے کے لئے اپنی مخصوص صاف بیانی سے کام لیا۔وہ ہر اقدام ذاتی خوشی کے حصول کے لئے کر رہے تھے۔یہ امر افسوسناک اور حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے اس قسم کے مقصد کے پیش نظر اتنی بڑی امانت کو چھوڑ دیا۔آپ کس قدر افسوس ہے۔آہ کس قدرا فسوس ہے یہ