تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 337 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 337

فصل شتمه مشتر کہ دعائیں کرنے کا فرمانا کیا ان میں مات اداری کو مانیںکرنے کی تحریک فرماتے رہتے تھے۔اور دسمبر کو جمعہ کا مبارک دن اور رمضان کا پچیسواں روزہ تھا۔اس روز حضور کے ل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ رمضان کے مبارک ایام اب قریب الاختتام ہیں۔ہمیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی صورت یہ اختیار کرنی چاہئیے کہ آج اور کل کی دو راتوں میں ایسی دعائیں کی جائیں جو مشتر کہ ہوں۔چنانچہ حضور نے خطبہ جمعہ میں جماعت کو اس امر کی طرف زورد ار طریق پر توجہ دلائی اور دو دانوں کے لئے مندرجہ ذیل دومشترکہ دعائیں تجویز فرمائیں :- پہلی دعا۔الہی تیرا عفو تام اور تو یہ نصوح ہمیں میسر ہو۔اور ن صرف ہمیں میسر ہو بلکہ ہمارے خاندان کو ہمارے ہمسایوں کو ، ہمارے دوستوں کو ، ہمارے عزیزوں کو اور رشتہ داروں کو اور ہماری تمام جماعت کو ، ہ میرا جائے۔خدا یاد ہم تیرے عابر و خطا کار اور گنہگار بندے ہیں۔ہم سخت کمزور اور ناتواں ہیں۔بالوں اور پھندوں میں ہم نے اپنے آپ کو پھنسا رکھا ہے۔انمیں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں اور ہماری نجات کی کوئی صورت نہیں سوائے اسکے کہ تیرا عفو نام ہم پر چھا جائے۔اور آئندہ کے لئے وہ تو بہ نصوح ہمیں حاصل ہو جائے جس کے بعد کوئی ذلت اور کوئی تنزل نہیں ہے " اے دوسری دُعا۔اے خدا تو کامل ہے۔ہر تعریف سے مستغنی ہے۔ہر عرات سے مستغنی ہے۔ہر شہرت سے مستغنی ہے۔تجھے اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ تیرے بندے تجھ پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔ان کے مان لینے سے تیری شان میں کو ئی ترقی نہیں ہو سکتی۔اور ان کے نہ مانے سے تیری شان میں کوئی کمی نہیں آسکتی میرے ہاے رب ! گو تو محتاج نہیں لیکن دنیا تیرے نور کی محتاج ہے اور ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تیری صفات دنیا پر جلوہ گر 3۔پنے لئے نہیں بلکہ اپنے غریب بندوں کی خاطر دنیا پر حم فرما اپنی حالی کے ظہار کیلئے نہیں کہ مخلوق پر ترتم اور شفقت کرنے کیلئے انہیں وہ راستہ دیکھا۔ہوا نہیں تیرے قرب تک پہنچانے والا ہو۔اور جس کے نتیجہ میں تیری بادشاہت دنیا پر قائم ہو جائے۔تا بنی نوع انسان تیرے نور سے منور ہو جائیں۔اُن کے دل روشن ہو جائیں، ام الفضل ٣ دسمبر ١٩٣٧ ء صفحه + كالم۔