تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 330 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 330

کے اعتراضات کے جواب لکھنا اور مختلف مذاہب کی پوری تحقیق کرنا اور اسلامی اصول کو علمی روشنی نہیں نیا کے سامنے پیش کرنا ہمارا اہم ترین فرض ہے۔ہمیں چاہئیے کہ اس بارہ میں تحقیقات پر مبنی اور ٹھونس معلومات پر مشتمل لیڑ پھر احمدیت کے نقطہ نگاہ سے مہیا کریں اور اس کو اکناف عالم میں پھیلائیں۔اس مبارک اور قیمتی تجویز پر تمام حاضرین نے لبیک کہا اور اس کی تکمیل کے لئے ایک مجلس انصار سلطان اعلمہ کے نام سے قائم کی گئی جب کے صدر مولانا ابو العطاء صاحب فاضل اور سیکر ٹری شیخ محبوب عالم صاحب خالد بی اے (آنرز) منتخب ہوئے۔مجلس کے معرض وجود میں آنے کے بعد عام اجلاس میں قرار پایا کہ اس کا ہر عمر کم از کم ہر ماہ ایک مضمون اختبار الفضل کے لئے لکھے۔نیز فیصلہ کیا گیا کہ علمی اور دینی سوالات کے مختصر جوابات اخبارات میں بھجوائے جایا کریں۔یہ مجلس غالباً دو تک مفید کام کرتی رہی۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب پر حملہ کا زخم ابھی تازہ ہی حضرت امیر المومنین کی کار راه های ایران ایران نی نی لایه ای استانی کی کار پر ایک بدقماش نے حملہ کر دیا۔اس المناک حادثہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی و اپنے لخت جگر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو اسٹیشن پر الوداع کہو کہ سات بجے شام کے قریب جب بزریعہ موٹر اپنے گھر تشریف لا رہے تھے تو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی گلی میں جب منظر پہنچی تو کسی بر باطن معاہد نے ایک پتھر میرے حضور کی کا پر پھینکا اور ال تعال کے فضل و کرم سے پھرور کی چھت پر لگا۔میٹر فورا ٹھہرائی گئی۔اور چند منٹ تک ادھر اُدھر حملہ آور کی تلاش کی گئی مگر کوئی دکھائی نہ دیا۔اس کے بعد حضور میٹر پر ہی سوار ہو کرگھر تشریف لے گئے۔یہ واقعہ اگرچہ نہایت درجہ اہم اور روح فرسا تھا۔مگر بطور احتجاج تھانہ میں اس کی کوئی اطلاع نہ دی گئی۔کیونکہ ان دنوں حکومت پنجاب کے افسروں کی آنکھیں بدلی ہوئی تھیں۔اور پولیس کے بہرے کانوں پر جماعت کی مسلسل چیخ و پکار کا کوئی اثر نہ تھا۔اور نہ وہ اقتدار کی بڑھتی ہوئی شرارتوں اور انکی انتہائی کمینہ حرکات کا کوئی مناسب تدارک کرتی تھی۔ٹے اس واقعہ پر قدرتی طور پر پوری جماعت احمدیہ میں زیر دست جوش و خروش پیدا ہوگیا اخلامیں نے ا :: الفصل ۲۵ نومبر ۱۳ و صفحه ۲ که افضل و ستمبر ، صفر و کالم اب