تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 331
۳۱۸ حضور کی خدمت میں متواتر خطوط اور تاروں سے اپنے بے پناہ جذبات عقیدت و فدائیت کا ثبوت دیا ہے۔اقعہ کی تقصیر حضرت علی ربیع الثانی یا حضرت خلیفہ اسی نانی نے وہ ستر سال کے خطبہ جمعہ میں اس واقعہ پر بالتفصیل روشنی ڈالتے ہوئے کے مقدس الفاظ میں بتا یا کہ۔: " جبکہ ہم شیشن سے واپس آرہے تھے تو اُس گلی میں جو شیخ یعقوب علی صاحب کی گلی کہلاتی ہے اُن کے گھر کے قریب جب موٹر گزر رہا تھا تو اس کی چھت پر قریباً اسی جگہ جہاں میں بیٹھا تھا اگر ذرا بائیں طرف بائیں کندھے کے اوپر کے قریب کوئی چیز زور سے گری۔اسکے اندر اچھی ترور کی طاقت بھی کیونکہ موٹر کی چھت پر کپڑا ہوتا ہے۔اور اسکے اور لکڑی کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔مگر یہ چیز اسی نور سے گرمی کہ کپڑے سمیت چھت سے آلگی۔اور چھت کا نہی اور میں معلوم ہوا کہ اس میں سے کچھ ذرے بھی گرے ہیں۔حالانکہ اس کے نیچے بھی کپڑا ہوتا ہے۔اس کے گرنے پر کیس نے ڈرائیور سے کہا۔وہ موٹر ٹھیرائے۔تا دیکھا جائے کہ کیا بات ہے۔مگر چونکہ موٹر کی رفتار تیز ہوتی ہے اور موٹر چھلنا نے والا ارادہ کے باوجود اسے یک دم نہیں روک سکتا۔اسلئے اُسے موٹر کو روکنے میں کچھ دیر لگی۔تب میں نے دوبارہ اُسے کہا کہ موٹر کو جلدی کھڑا کر دی۔چنانچہ اس نے موٹر کو کھڑا کیا۔مگریہ اندازا دنی پندرہ گز کے فاصلہ پر جا کر کھڑی ہوئی۔اور جس جگہ وہ ٹھہری و ہاں میاں فیروز الدین صاحب بینواری کا مکان ہے۔وہ باہر رہتے ہیں مگر اُن کا گھر یہیں ہے لیکن وقوعہ اس مکان سے دس یا پندرہ یا میں گز پرے کا ہونا چاہیئے یا اس سے کم و بیش۔کیونکہ چلتی ہوئی موٹر کے فاصلہ کا اندازہ کرنا شکل ہوتا ہے۔لیکن بہر حال یہ فاصلہ پانچ دس گز سے پندرہ بیس گز تک ہو سکتا ہے۔موٹر کے ٹھہر جانے پر میں نے اُس کے پائدان پر کھڑے ہو کر چھت کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ جو چیز گری تھی اس کا اس حصہ چھت پر کوئی نشان نہ تھا۔جس کے متعلق مجھے خیال تھا کہ اس پر کوئی چیز پھینکی گئی ہے۔البتہ اسکے اگلے حصہ پر جو بالکل قریب زمانہ میں مرمت کرا یا گیا تھا۔تین چار یا پانچے میں تسبیح نہیں کر سکتا گر متعدد جگہ سے کپڑا پھٹا ہوا تھا۔مگر ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ عزیزم ناصر احمد دو تین ہفتہ پہلے جب اپنی پھوپھی سے ملنے کے لئے ڈلہوزی گئے تھے تو وہاں سے واپسی یہ پہاڑ سے کچھ پھر گرے تھے۔له کہ کپڑا ان پتھروں سے پھٹا تھا۔اور یہ نشان اُن ہی پتھروں کے ہیں۔پس پیشانات پھینکی ہوئی چیز کیطرف ان الفضل ۳ ۱ اکتوبر ۱۹۳۶ ایر صفحه ۳ : ۵۲ یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بارتابل)