تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 329 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 329

تو اب سر فضل حسین صاحب بغیر کسی عہدہ کے حاصل کرنے کے دنیا سے رخصت ہو جاتے لیکن اللہ تعالیٰ بتانا چاہتا تھا کہ جو شخص احمدیت کی خاطر اپنے اوپر کوئی اعتراض لیتا ہے۔ہم اُسے بھی بغیر عزت دئے نیت نہیں ہونے دیتے۔پس غیر معمولی حالات میں سر فیروز خاں صاحب نون ولایت گئے اور سرمیاں فضل حسین صاحب وزیر تعلیم مقر ہو گئے۔اور چند دنوں کے بعد ہی وفات پاگئے۔۸ ارجون کو وہ پنجاب کے وزیر تعلیم مقرر ہوئے تھے۔اور وہ جولائی کو فوت ہو گئے۔گویا صرف تین ہفتے وہ راس عہدہ پر فائز رہے۔میرے نزدیک یہ بھی خدائی حکمت اور خدائی فکر تھا جو دشمنوں کو یہ بتانے کیلئے اختیار کیا گیا کہ تم تو اسکے دشمن ہوا اور چاہتے ہو کہ اسے ذلیل کرد لیکن ہم اس کو بھی ذلیل نہیں ہونے دیں گے جو گو احمدی نہیں مگر احمدیت کی وجہ سے وہ لوگوں کے مطاعن کا ہدف بنا ہوا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برسر اقتدار کیا اور اس قدر غربت دی کہ ان کی وفات سے چند دن پہلے ہی ایک ہند و اخبار نے اس بات پر مضمون لکھا تھا کہ ہندوستان میں اس وقت کون حکومت کر رہا ہے اُس نے لکھا کہ گو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ انگریز حکومت کر رہے ہیں یا وائسرائے حکومت کر رہا ہے یا گورنہ حکومت کر رہا ہے۔مگر یہ درست نہیں۔اصل میں تمام ہندوستان پر سر میاں فضل حسین حکومت کر رہے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب تھا اُن لوگوں کو جو کہتے تھے کہ میاں سر فضل حسین نے چونکہ گورنمنٹ ہند میں ایک احمدی کو وزارت پر مقرر کرایا ہے۔اور وہ مرزائیت نواز ہیں۔اس لئے ہم انہیں ذلیل کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا۔جو شخص احمدیت کی خاطر پنے نفس پر کوئی تکلیف برداشت کرے گا۔وہ گو احمدی نہ ہو۔ہم اُسے بھی ذلیل نہیں ہونے دینگے لیے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو طالبعلمی کے مجلس انصار سلطان القلم کا قیام حضرت صاحبین زمانہ ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے پاکیزہ علم کلام اور مقدس لڑیچر سے گہری شیفتگی اور وابستگی رہی ہے۔اسی طبعی جوش اور فطری جذبہ کے تحت آپ نے ۲ ستمبر سلہء کو مولانا ابو العطاء صاحب شیخ محبوب عالم صاحب خالہ اور بعض دو سے اہل قلم احمدی دوستوں کو اپنی کو ٹھی النصرة میں مدعو کیا اور ایک تبارک تجویز پیش کی۔آپنے فرمایا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےپاکرہ علم کلام کی بکثرت اشاعت کرنا مغربی فلاسفرون الفضل در جولائی ۱۹۳۶ در صفحه ۲ کالم ۱-۲-۳*