تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 328 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 328

نما سبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اس روز صبح سویرے ہی بذریعہ موٹر امرتسر تشریف نے گئے۔اور امرتسر اسٹیشن پر آپ کا استقبال کیا۔اور اسی گاڑھی قادیان پہنچے۔جہاں مقامی جماعت کی طرف سے پر خلوص استقبال کیا گیا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو ہار پہنائے گئے۔اے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ الحمد ، ڈھائی ماہ قادیان میں قیام پذیر رہنے کے بعد ار ستمبر کو دوبارہ ولا بہت روانہ ہو گئے۔لے جبکہ میاں فضل حسین صاحب کی ایک ایسے وقت میں یہ مسلمانان پنجاب نہایت ہیں صاحب نازک مرحلوں میں سے گزر رہے تھے اور ہندو ستان میں نیا المناک وفات سیاسی در شروع ہونے والا تھا۔ملک سر میاں فضل حسین صاب ایسے مخلص اور مک تیغ سیاسی لیڈر سے محروم ہوگیا۔میاں صاحب موصوف عرصہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔مگر انہوں نے مسلمانان پنجاب کو منظم کرنے اور دیگر اقوام کا تعاون حاصل کرنے میں اپنی صحت کی کوئی پروا نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ آخر اور جولائی ۹۳ار کی رات کے ساڑھے دس بجے ہندوستان کے اسی تجلیل القد تسلم مد تیر اور سیاستدان کا انتقال ہوگیا۔نئے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی همرنے ، در جولائی ۱۹۳۶ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے سے قبل مختصر تقریر کی جس میں سرمیاں فضل حسین صاحب کی وفات کو الہی نشان قرار دیتے ہوئے بتایا کہ:- مدت تو سر زیاں فضل حسین صاحب کی جولائی میں مقدر مخفی اور پہلے عہدہ سے علیحدگی کے بعد ان کے لئے بظاہر کوئی پھانسی اور موقع ایسا نہ تھا میں ہیں وہ پھر کوئی عربات حاصل کر سکتے مگر ان کے دشمنوں نے چونکہ انہیں مرزائیت نو از کہہ کہکر ذلیل کرنا چاہا۔اس لئے اللہ تعالی نے اس اعتراض کی غیرت میں انہیں حرکت دی اور عزت دینے کے بعد ا نہیں وفات دی۔اس کیلئے خدا تعالیٰ نے کتنے ہیں غیر معمولی سامان پیدا کئے۔چنانچہ بنا کے وزیر تعلیم سر فیروز خان نون کے انگلستان جانے کا بظاہر کوئی موقع نہ تھا۔اور جن کو اندرونی حالات کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ آخری وقت تک سر فیروز خاں صاحب نون کے ولایت جانے کے متعلق کوئی یقینی اطلاع نہ تھی بعض اور لوگوں کیلئے گورنمنٹ آف انڈیا اور ولایتی گورنمنٹ بھی کوشش کر رہی تھی۔اور اگر سر فیروز خان پنجاب میں ہی رہتے ا الفضل ، جولائی ۳۶ : ۲۲ الفضل و ا ستمبر ۱۹۳۶ به صفحه ۱ : سله الفضل ۱۲ جولائی ۳۶ داء صفر ۲ کالم ۳