تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 324
الاسم بز و شمشیر فتقع اسلام کا نعرہ بلند کیا، مولوی صاد نے مشیر قبلہ اور قرآن پر زور دیا۔جو ان کی منگو بیعت کے مناسب نہ تھا۔اختلاف پیدا ہوا۔اور بعض نے پولیس میں جا کہ رپورٹ کر دی کہ نو وارد مسلمان تو ضرور ہے لیکن جہاد سیف کا قائل نہیں۔اور لوگوں میں اس کے خلاف خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اچانک ایک روز پولیس نے مولوی صاحب کو تمام ایک طویل گفتگو کی اور نقل و حرکت پر پابندی لگا دی اور کہا کہ افسران بالا کے احکام کا انتظار کریں۔چند دنوں بعد پولیس نے مولوی صاحب کو البانیہ سے یوگوسلاویہ کی سرحد میں داخل کردیا۔مولوی صاحب کچھ کہتا ہیں اور کیڑے لے جاسکے۔اب مولوی صاحب نے یوگوسلاویہ کے دارالخلافہ بگاڑ کا رخ کیا۔وہاں پہنچ کرحضرت صاحبت کی خدمت میں اطلاع بھیجوائی اور عزیز و اقارب کو بھی خطوط لکھے۔مرکز سے ہدایت بھجوائی گئی۔کہ آپ اب سرحد کے قریب بیعنی البانیہ اور یوگوسلاویہ کے خط جہل کے علاقہ میں تبلیغ کی کوشش کریں۔یہاں مولوی صاحب کا قیام قدرے لمبا ہوا۔بیلگراڈ کے خطوط اُمید افزا ہوتے اور یقین سے پر۔کہ احمدیت کا ایک دن جھنڈا اس ملک میں ضرور ہرائے گا۔یہ علاقہ مدتوں تک مسلمان حکمرانوں کے زیر اثر رہا ہے اورمسلمانوں کی آبادی بھی کافی ہے۔مساجد بھی ہیں۔اس میر امن ماحول سے فائدہ اُٹھا کر مولوی صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کشتی نوح اور پیغام صلح کا ترجمہ شائع کر کے بر سر بازار فروخت کے لئے پیش کیا۔قیمت کچھ مقدر نہ کی۔جولینے والا چاہے ادا کرے اور بینک مفت لے جائے گر کسی نے ایک بھی نسخہ بلاقیت نہ اٹھایا۔اور اس قدر رغم وصول ہوئی کہ مولوی صاحب نے ایک احمدی دوست جن کا نام شریف و سا تھا، کے مشورہ سے ایک نیک نام شخص کے ساتھ چائے کی دوکان میں شرکت کرلی جس سے یہ فائدہ ہو کہ مولوی صاحب اپنے ملاقاتیوں کو اکثر یہاں ملتے، اور چائے سے خاطر تواضع کرتے اور تبلیغ بھی کرتے شریف و تسا صاحب بیلگراڈ میونسپل کمیٹی کے نمبر تھے اور اُن کا چھوٹا بھائی فوج میں لفٹیننٹ تھا۔یہ پہلا احمد می مخلص خاندان تھا جس کی مولوی صاحب کو صحبت و رفاقت حاصل ہوئی۔اب مولوی صاحب نے دورے شروع کر دئے۔مرکز - دس دس دن باہر گزارتے۔مساجد میں شب باش ہوتے۔کم کھاتے اور عبادت و ریاضت میں اکثر وقت صرف ہوتا۔چنانچہ ایک مرگی والے مریض کو شہد دینے سے بہت حد تک شفا ہوئی جس سے مولوی صاحب کی شہرت ہونے ابھی۔اور لوگ مولوی صامر سے دھکرانے آتے۔یہ لوگ بھی بڑے تو قیم