تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 325
پرست ہیں۔تعویذ گنڈا۔دھاگا۔دم۔جادو وغیرہ کے قائل ہیں۔ماہ رمضان میں پو را در مسجد میں اعتکاف کی وجہ سے لوگوں سے واقفیت کا میدان پھیل گیا۔اور لوگ تو جہ سے وعظ سُفنے اور اسلام کی ترقی کی خوشخبری پر انکے پہرے دمک اٹھتے۔سالات نے یکدم ہوں پلٹا کھا یا کہ البانیہ کی بولی کے کاغذ مینگراڈ پولیس کے پاس پہنچ گئے مولوی نے ہوں صاحب اُسوقت مرکز سے باہر تھے۔پولیس کو شبہ کی تقویت گنجائش نکل آئی اور انہوں نے بار بار چکر لگانے شروع کئے۔اور جب مولوی صاحب کو یوگوسلاویہ کی پری نے کس ۲۴ گھنٹے کے اندر نکلنے کا واش یا تو دوستوں کو بہت افسوس ہوا۔شریف و تسا صاحب اور ان کا بھائی اس سیاسی معامہ میں کچھ مدد نہ کر سکتے تھے۔چنانچہ مولوی صاحب نے اُن کو الگ رہنے کی ہدایت کی۔اور صرف یہ کہا کہ اگر آپ میرے شریک کار سے میری رقم نکلوا دیں تو سر کی آسانی رہے گی۔ہوا یہ کہ شخص پولیس کی آمد دیکھ کر سب کچھ فروخت کر کے دوکان بند کر کے بھاگ گیا۔وقت ختم ہو رہا تھا۔مولوی صاحب نے بازارمیں کھڑے ہو کر سوائے ایک اوور کوٹ OVER COAT کے سب اشیاء مملوکہ فروخت کردیں اور اپنی بھائے رہائش پر آگئے۔۲۴ گھنٹے گزر گئے۔پولیس نے مولوی صاحب کو ہمراہ لیکر یونان کی سرحد میں داخل کرنے یا۔اور واپس آگئی۔اس طرح مولوی صاحب بلا کسی خرچ کے یونان میں منتقل کر دئے گئے۔اُس وقت ایک جہانہ اٹلی جانے کے لئے بندر گاہ میں لنگر انداز تھا۔یہاں سے مولوی صار بنے جہاز کے عملہ والوں سے گفت و شنید کے ذریعہ کم کرایہ پر کٹ خریدا اور اٹلی چلے گئے۔وہاں حمدی کے مبلغ ملک محمد شریف صاحب پہلے سے مقیم تھے۔ان سے ملاقات ہوگئی اور سابقہ کوفت دور ہوئی اور نئی سرگذشت کا آغاز ہوا۔ان تمام حالات سے قادیان میں حضرت صاحب کو باخبر کیا۔اسی اثناء میں شریف و تسا صاحب روم میں مولوی صاحب کو خطرہ۔کہ وہ سیر کیلئے رہے ہیں۔جب وہ آئے تو ایک معقول رقم ہمراہ لائے جو انہوں نے مولوی صاحب کے شریک کار سے وصول کی تھی۔مولوی صاحب نے مجھے لکھا کہ رقم اس ترقی کہ مجھ پر فرض ہوگیا۔اور میں نے عزم بہت اللہ کر لیا۔اس سالی حکومت اٹلی نے ایک جہاز میں حاجیوں کیلئے یہ سہولت بہم پہنچائی۔کہ انہیں ارض تجاوز میں بلا کرایہ پہنچایا جائے گا۔اس طرح زیارت مکہ مکرمہ کا بندوبست ہو گیا۔اور مولوی صاحب حج سے تین ماہ قبل حتجاز میں وارد ہوئے۔مکہ مکرمہ میں ایک معمولی مکان کرایہ پر لیکر بیت اللہ کے فیوض سے اپنے دو انج