تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 323 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 323

٣١٠ یہ سلسلہ اشاعت حق جاری تھا کہ آپ کو یوگوسلاویہ سے بھی نکلنا پڑا۔اور آپ درجون و کو بلغاریہ میں آگئے اور صوفیہ میں ایک ماہ تک احمدیت کی منادی کرتے رہے۔بعد ازاں اٹلی کے صدر مقام تروما میں پہنچے سے اسی دوران میں دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ کو اٹلی سے مصر میں آنا پڑا۔جہاں کچھ عرصہ اعلائے کلمتہ اللہ کا فریضہ بجا لانے کے بعد مارمارچ ۱۹۳۷ء کو واپس قادیان تشریف لے آئے۔ملک مولوی محمد الدین صاحب کےمزیت تبلیغی مولوی محمد الدین صاحب کے برادر اکبر ک مستقیم حالات اور دردناک شہاد کا واقعہ صاحب بی اسے ایل ایل بی ایڈووکیٹ ساہیوال رقمطراز سیاسی ہیں کہ : مولوی محمد الدین صاحب ابن ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب اُس پہلی صف کے مجاہدین میں سے تھے۔جنہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی من کی راہ کی آواز پر لبیک کہا اور تین سال کیلئے غیر مالک میں تبلیغ کے لئے پیش کیا۔شرط حضور کی یہ تھی کہ مجاہدین خود غیر ممالک میں اخرا جا سکے کفیل ہوں گے۔مولوی محمد الدین صاحب کے لئے ملک البانیہ تجویز کیاگیا جس کا فرمانروا اس وقت ایک نوجوان احمد و تھا۔اُس کی تربیت مغربی طرز پر ہوئی تھی۔اس لئے اُس کے خیالات کچھ آزاد تھے اور منہ ہی واقفیت کم تھی۔لوگ سرحدی علاقہ کے پٹھانوں کی مانند تھے۔اور تمام ملک پہاڑی ہے۔کچھ حقہ میدانی ہے۔اس لئے باوجود مسلمانوں کے جفاکش ہونے کے علم دین کی طرف توجہ نہیں تھی۔یور میں ملک ہونے کے لحاظ سے بھی ذرائع سفر سڑک و سواری کا لعدم تھے۔اء میں مولوی صاحب سلسلہ کی کتب کا ایک بیس جو ہم مجاہد کے سپرد کیا جاتا تھا۔تاکہ ہر بلاک میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا لٹریچر پہنچ کر محفوظ ہو جائے لیکر البانیہ کے دارالخلافہ ٹیرانہ میں پہنچے۔اور ایک مقامی ہوٹل TIRANA میں قیام کیا۔حالات کا جائزہ لیا۔اور رفتہ رفتہ تبلیغی مہمات پر جانا شروع کیا۔جب مولوی صاحب نے مساجد و ملاقات میں سلسلہ گفتگو شروع کیا اور مباحثات اور مناظرات کے پہلو سے گریز کیا۔تو اولین سوائن گذاب اسلام کی زندگی کے لئے تبلیغ اسلام ضروری ہے، پر لوگوں نے و ۲ الفضل ٢٢ ستمبر ٩٣ ا ء صفحه ١٠ : الفضل - ار مادح ۱۹۳۱ یه صفحه ۲ ارما