تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 301 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 301

۱۹۳۰ کامیاب رہا ہے ۱۳ - مباحثہ شیخوپوره - ۲۷ اکتوبر شاید کو شیخو پورہ میں ایک اہم مناظرہ ہوا جس میں مولوی محمد سلیم صاحب نے مولوی نور حسین صاحب گر با کبھی سے اور ملک عبد الرحمن صاحب خادم گجراتی نے مولوی احمد الدین صاحب گا گھڑ دی سے کامیاب بحث کی مخالفین نے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے مناظرہ کے بعد احمدیوں پر کنکر اورٹی کے ایسے پھینکے جس پر مخالف پارٹی کے پریزیڈنٹ مولوی امین الحق صاحب نے خود اگر اس بداخلاقی کے مظاہرہ پر معافی مانگی اور اس ناواجب سلوک پر سخت ندامت اور شرمندگی کا اظہار کیا۔ہے ڑے ان مباحثات کے علاوہ ۲۹ ستمبر ۱۹۳۵ ء کو جماعت احمدیہ وزیہ آباد کے ایک وفد نے جس کے امیر ر جماعت و زیر آباد کے سیکرٹری چوہدری شاہ محمد صاحب تھے۔کرم آباد میں مولوی ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر "زمیندار" سے دلچسپ گفتگو کی۔اور اُن کو زیہ بیست دلائل سے بالکل لاجواب کرد یا۔بر گفتگو چو ہدری شاہ محمد صاحب نے کی تھی۔جس کی تفصیل خود چو ہدری صاحب نے ( الفصل ۱۵ اکتوبر ) میں بھی شائع کرا دی تھی۔۱۹۳۵ء میں بیعت کرنے والوں کی تعداد سواء کے مقابل کہیں زیادہ تھی جس کی نو مبالعین یک وجبر بھی تھی کہ اس سال سات سو و آنریری مسلمین کے ایک اسے سمول میں جبکہ مخالفین نے خطر ناک اشتعال پیدا کر دیا تھا، دیوانہ وار تبلیغ کا فریضہ ادا کیا۔اس سال کے همت از نو مبایعین میں سے ضلع ملتان کے رئیس ملک عمر علی صاحب کو گھر بھی تھے سیکیے جن کا ذکر خود حضرت میشه الفضل دار نومبر دوره صفور سے افضل بار نومبر ۱۹۳۵ء صفحه کالم : سے افضل وار نومبر ۱۹۳۵ء ۹۰۸ لادت بگم شروری کہ وفات - ارمئی سہ۔کھو کھر خاندان کے چشم و چراغ تھے میرا نہ ٹھاٹھ باٹھ کے باوجود زمان یا علمی ہی سے نہایت متواضع مہمان نواز علم نواز اور پابند صوم میلوں تھے۔احمدی ہونے کے بعد یہ معات اور بھی نمایاں ہو گئیں۔فاریا کے محلہ دارالا نوار میں اپنی شاندار کو بھی بنوائی حضرت خلیفہ المسیح الثانی آپ پر بہت شفقت فرماتے۔حضور کے ماموں حضرت میر محمد اسحق صاحب کی بیٹی محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ اُن سے بیاہی گئیں۔ملک صاحب موصوف کچھ عرصہ تک وکیل التبشیر بھی رہے اور اپنے ذاتی خرچ پر یورپ کا تبلیغی دورہ بھی کیا۔سالہا سال تک ضلع ملتان کے امیر جماعت رہے۔اپنے علاقہ میں اکیلئے احمدی تھے اور ضلع بنان میں احدیت کے ایک ستون کی حیثیت رکھتے تھے مبلغین سلسلہ کو بہت عزت و احترام گاہ سے دیکھتے تھے۔علمی کتب جمع کرنے کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ذاتی مطالعہ نہایت وسیع تھا۔بڑے بڑے افسروں کو بے دھڑک تبلیغ کر لیتے تھے۔صاحب رو یاد بھی تھے۔چنانچہ بتا یا کرتے تھے کہ 1 ء میں جبکہ میں کلکتہ میں تھا۔مجھے خواب آیا کہ حضرت خلیفہ ثانی کا مقام بلند ہو گیا ہے۔میں فوراً قادیان ، انہیں پہنچا اور حضور کی زبان سے وہ ا سلمان شتاء