تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 291
بادشاہ احمدیت میں داخل ہونگے۔لیکن جب وہ بادشاہ آئیں گے تو انہیں کون بتائے گا تمہارے کیا فرائض ہیں۔اگر آج ہم قرآنی تعلیم سے اخذ کرکے دہ فرائض اپنی کتابوں میں نہیں لکھ دیں گے ہو بادشاہوں اور حکومتوں کے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی نقل کریں گے۔اور اُس کا نتیجہ بجز تباہی کے اور کچھ نہیں ہوگا۔پس آپ لوگوں میں سے ہر ایک کو معلوم ہونا چاہیئے کہ احمدیت کس قسم کی بادشاہت دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔تاجب بادشاہت آئے اور اس وقت کے بادشاہ کسی اور رنگ میں کام کرنا چاہیں تو فورا ان کو بتا دیا جائے کہ یوں حکومت کرو۔ہم تمہیں وہ باتیں قرآن مجید سے اخذ کر کے بتاتے ہیں جن کے ماتحت تمہارے لئے کام کر ناضروری ہے۔اس تفصیل کے بعد حضور نے لیگ آف نیشنز اور اسکی ناکامی کے اسباب بتائے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امن عامہ کے ذرائع پر سیرت اصل روشنی ڈالی اور آخر میں اسلامی لیگ آف نیشنز کا خاکہ رکھنے کے بعد نصیحت فرمائی کہ وہ یہ خیالات دنیا میں پھیلائیں تا اسلام اور احمدیت کی برتری ثابت ہوئے ۹۳۵ار کی عید الفطر اور حضرت اء کے سالانہ اس کے مابعد دسمبر کو یر اعظم امیرالمومنین کی بعیت افروز خطبہ منای گئی قادیان میلے کا امام کا عالم تھاکہ عیدگاہ کے نہایت خلقت وسیع میدان کے علاوہ دور دور تک احمدی ہی احمدی نظر آتے تھے۔الفطر اس موقعہ پر شہر سے دور مقام پر لاؤڈ سپیکر کا انتظام ممکن نہیں تھا اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہو نے خطبہ کے الفاظ و مستوں تک پہنچانے کیلئے سلسلہ احمدیہ کے نو جید علماء حسب ذیل نقشہ کے مطابق متعین فرمائے ہیں قریشی محمد نذیر صاحب حقانی مولوی دال محمد صاحب جنوب خواتین کا مجمع ضرت امیر المؤمنين مولوی محمد سلیم صاحبی ملک عبد الرحمن صاحب خادم شمال ی که دوه مولوی اور ان صاحب میر گر مولوی محمد اعظم صاحب بوتادی مولوی محمد عبد اللہ صاحب اعجاز ١٩٣٥ مولوی عبد الرحمن صاحب بیشتر چوہدری محمد شریف صاحب ) له الفضل ۲۹ دسمبر ۱۹۳۵ء صفر ہے ملے اس پر معارف تقریر کا ملخص الفصل ۲۹ دسمبر ۹۳۵اء صفحہ ۲۱ پر موجود ہے جسکے سرسری مطالعہ سے بآسانی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل تقریر کس شان کی ہوگی : ۳ الفضل ۲ جنوری ۱۹۳۶ صفحه ۴ :