تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 290 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 290

خان بہادر شیخ محمدحسین صاحب بھی وفات پاگئے ہیں۔وہ تو صحابی نہیں تھے بلکہ حضرت خلیفہ اسے اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے بیعت کی مگر نہایت مخلص تھے اور ہمیشہ جماعت کے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی صحابی سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم کی اہلیہ صاحبہ بھی وفات پاگئی ہیں۔وہ بھی سلسلہ سے گہرا اخلاص رکھتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے جوار رحمت میں جگہ ہے۔اور پسماندگان پر اپنے فضل کا ہاتھ رکھے۔منشی فیاض علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ۳۱۳ میں ان کا نام تھا۔فوت ہو گئے ہیں۔۔۔۔ران موتوں کے ساتھ ساتھ یہ خیال شخص کے نزل میں اٹھنا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں۔نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ کوشش کریں کہ وہ اُسی رنگ میں رنگین ہو جائیں جس رنگ میں یہ لوگ رنگین تھے۔ویسلسلہ کے لئے قربانیاں کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے انابت اور توجہ کریں کہ اس انابت کے نتیجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے۔اور ان کا ایمان صرف خشک ایمان نہ رہے بلکہ حضرت یح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی طرح اُنہیں نہ ایمان حاصل ہو نے احمدیت اور سیاسیات عالم فنی ۲۷/۲۶/۲۵ دسمبر ۱۹۳۵ ء میں جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ قادیان میں منعقد ہوا جس میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لاکر تین بار خطاب فرمایا۔(۱) اپنی افتتاحی تقریر یں اسلام او احمدی کے عالمگیر غلبہ کی پیشگوئی کا تذکرہ فرمایا۔(۲) کوس کے دن کی تقریب میں تحر یک جدید کے مقاصد پر تفصیل روشنی ڈالی سیر تیسرے دن کے افتتاحی خطاب میں بڑی شرح وبسط سے بیان فرما یا کہ احمدیت دنیا کی سیاسیات میں گیا تغییر پیدا کرنا چاہتی ہ ہے اس مضمون کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مصور نے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا العام ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے بہت ڈھونڈیں گے۔اس کے مطابق ہمیں یقین ہے یہ له ان ۲۳ اکتو بوصفه الانم او له اش در مشهد کے لفض ۲۹ دسمبر وار صفحه ۲۰۱ أدم