تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 205 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 205

۱۹۲ نوجوان ہیں کہ اگر سر محمد اقبال غور کریں تو یقینا انہیں ماننا پڑے گا کہ ان کی اپنی جوانی اس نوجوان کی زندگی سے سینکڑوں سبق لے سکتی ہے۔پھر ان شواہد کی موجودگی میں ان کا کہنا کہ احمدی منافق ہیں اور وہ ظاہر میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن دل سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دین کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں کہاں تک درست ہو سکتا ہے ؟ میں تمام ان شریف مسلمانوں سے جو اسلام کی محبت رکھتے ہیں، درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹھنڈ دل سے اس صورت حالات پر غور کریں جو ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے اعلان نے پیدا کر دی ہے اور دیکھیں کہ کیا اس قسم کے غیظ و غضب کے بھرے ہوئے اعلان مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے یا خواب کریں گے اور سوچیں کہ ایک شخص جو اپنے احمدی بھائی کو بلوا کر اس سے اپنی کو بھی بنواتا ہے دوسرے مسلمانوں کو اُن کے بائیکاٹ کی تعلیم دیتا ہے کہا تک لوگوں کے لئے راہنما بن سکتا ہے اور اسی طرح وہ شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کھلا حملہ کرنے والے کو اچھا قرار دیتا ہے اور اپنے ایمان پر اعتراض کرنے والے کو نا قابل معافی قرار دیتا ہے کہانتک مسلمانوں کا خیر خواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔کاش سر محمد اقبال اس عمر میں ان امور کی طرف توجہ کرنے کی بجائے ذکر الہی اور احکام اسلام کی بجا آوری کی طرف توجہ کرتے اور پیشتر اس کے کہ تو بہ کا دروازہ بند ہوتا، اپنے نفس کی اصلاح کرتے تا خدا تعالٰی اُن کو موت سے پہلے صداقت کے سمجھنے کی توفیق دیتا اور وہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے سچے متبع کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش ہو سکتے۔وَ اخْرُدَعُونَنَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمين " الفضل قادیان ۱۸ جولائی ۱۹۳۵ : والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدید جناب عبد الحکیم صاحب شملوی کا بیان ہے کہ وہ اد کا واقعہ ہے۔مولانا شوکت علی نواب صاحب بھوپال کے مہمان تھے اور نہان ہاؤس شملہ میں تو اپ صاحب کے کیمپ میں مقیم تھے۔میں اُن سے ملنے گیا۔وہاں مولانا کی ملاقات کے لئے سر محمد اقبال بھی تشریف (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )