تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 206 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 206

197 کرسر محمد اقبال صاحب کی رو عمل حضرت ام المومین رضیاللہعنہ کے مالا مضمون اور آپ کے بیان فرمودہ حقائق کے رد میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو آنمردم تک قسم اٹھانے کی خیرات نہ ہو سکی۔البتہ انہوں نے اپنے فلسفیانہ انداز میں احمدیت پر تنقید ضرور جاری رکھی۔خصوصا پنڈت جواہر لال نہر سکے تو مضامین کے جواب میں (جو کلکتہ کے رسالہ ماڈرن ریویو" میں شائع ہوئے تھے) بقيه حاشیکار صفی گذشته لائے۔مولانا چونکہ وہاں موجود نہ تھے کہ محمد اقبال سے میری باتیں ہوتی رہیں۔دوران گفتگو میں میرے نے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا۔فی الحقیقت اگر آج کوئی قدمت اسلام کر رہا ہے تو وہ صرف جماعت احمدیہ ہے۔اور یہی لوگ ہیں جو حق رکھتے ہیں کہ مسلمان کہلائیں۔ان میں میں سب باتیں قرون اولی کے مسلمانوں کی پاتا ہوں غیور اور پکے مسلمان ہیں۔آپس میں نیت اور ایثار سے کام لیتے ہیں۔اس پر میں نے اُنہیں بتایا کہ ایک دفعہ مولانا محمد علی نے فرمایا تھا۔اگر مجھے دس آرمنی احمدیوں کا سا اخلاص اور سچائی رکھنے والے مل جائیں تو میں ہندوستان کے مسلمانوں کی تنظیم کر سکتا ہوں۔افسوس یہ ہے کہ جس کے سپرد ہم کوئی کام کرتے ہیں وہ خود مختار بن کر بیٹھ جاتا ہے۔اس پر سر اقبال نے کہا۔مولانا نے صحیح کہا ہے۔یہی حال آج مسلمانوں کا ہے۔وہ اس قدر خود سر ہیں کہ دوسرے کی بات مانتے کو ہرگز تیار نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان روز بروز اپنی اس خود سری کے باعث انحطاط کی طرف جا رہے ہیں۔یہ تو ایک ملاقات کا ذکر ہے۔ورنہ یہ اقبال کو میں جب بھی ملا انہیں احمدیت کا بے انتہا ملاح پایا۔چونکہ سر اقبال کا لڑکا آفتاب احمد میرا ہم جماعت تھا۔میں نے اس کا حال پوچھا تو کہنے لگے میں نے اُسے قادیان پڑھنے کے لئے بھیجا تھا تا دین سیکھ لے مگر وہ وہاں نہ رہا۔جو شخص اپنے بچے کو قادیان تربیت کے لئے بھیجتا ہے از گا وہ دل میں احمدیت کی قیمت جانتا ہے۔اب احزار یوں کے دباؤ یا اپنے لئے مسلمانوں کے اندر کوئی جگہ بنانے کے لئے مخالفت پر آمادہ ہو جائے تو اور بات ہے۔والفضل قادیان ۲۰ اگست ۹۲۵ ایر صفحه ۱۴ عاشی تعلقہ صفحہ ہذا : نے پنڈت جی نے ڈاکٹر صدر اسب موصورت کے پہلے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر اسلام کے ایک بنیادی مقید ختم نبوت کے انکار سے قادیانی خارج از اسلام ہو گئے ہیں تو آغاخاں کو مسلمان قرار دینے کی وجہ کیا ہے ؟ پنڈت جی سوشلسٹ خیال کے سیاسی لیڈر تھے۔جماعت احمدیہ کے مذہبی یا سیاسی اذکار سے تو ان کو کوئی ہمدردی تھی نہیں ہاں دوستانہ تعلقات کے اعتبار سے وہ ڈاکٹر یا حب سے زیادہ قریب تھے۔ستید رئیس احمد جعفری لکھتے ہیں۔قبال بھی جواہر بال کے بارے میں بڑی اچھی رائے رکھتے تھے۔کشمیر بیت کہ اشتراک سے قطع نظر وہ اُن کے اخلاص، بے باکی ، جوش کار ، حب وطن ، ذہانت، قابلیت ، فرامت ، ہر چیز کے معترف تھے " اقبال اور سیاست ملی » صفحه۔و بقیه باشید اگلے صفحہ پر)