تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 204 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 204

191 احمدی ہندوستان کے ہر گوشے میں رہتے ہیں۔دوسرے فرقوں کے لاکھوں کروڑوں مسلمان ان کے حالات سے واقف ہیں۔وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ قر آن کریم کی تعلیم پر مسل کرنے والے ، رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نماز کے مطابق نماز پڑھنے والے، روزے رکھنے والے، حج کرنے والے اور زکوۃ دینے والے ہیں۔وہ کون سی بات ہے جو احمدی چھپاتے ہیں اور سہ محمد اقبال کے پاس وہ کو نسا ذریعہ ہے جس سے انہوں نے یہ علوم کیا کہ احمدیوں کے دل میں کچھ اور ہے مگر ہر وہ کچھ اور کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس قدر محتاط تھے کہ جب ایک صحابی نے ایک شخص کو جس نے جنگ میں عین اس وقت کلمہ پڑھا تھا جب وہ اُسے قتل کرنے لگے تھے قتل کر دیا۔اور حذر یہ رکھا کہ اس نے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے تو آپ نے فرمایا کہ هَلْ شَعَمْتَ قَلبہ کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا ہے، لیکن ڈاکٹر سہ محمد اقبال صاحب آج دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قوم جس کے افراد نے افغانستان میں اپنے عقائد چھپانے پسند نہ کئے لیکن جان دے دی ، ساری کی ساری منافق ہے اور ظاہر کچھ اور کرتی ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے۔اگر یہ الزام کوئی ایسا شخص لگاتا جسے احمدیوں سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو میں اُسے معذور سمجھ لیتا۔لیکن سر محمد اقبال معذور نہیں کہلا سکتے۔اُن کے والد صاحب مرحوم احمدی تھے۔اُن کے بڑے بھائی صاحب شیخ عطا محمد صاحب احمدی ہیں۔ان کے اکلوتے بھتیجے شیخ محمد اعجاز احمد صاحب سب بیج احمدی ہیں۔اسی طرح ان کے خاندان کے اور کئی افراد احمدی ہیں۔ان کے بڑے بھائی صاحب حال ہی میں کئی ماہ اُن کے پاس رہے ہیں۔بلکہ جس وقت انہوں نے یہ اعلان شائع کیا ہے اس وقت بھی سر محمد اقبال صاحب کی کوٹھی وہ تعمیر کرا رہے تھے۔کیا کہ محمد اقبال صاحب نے اُن کی رہائش کے ایام میں انہیں منافق پایا تھا یا خود اپنی زندگی سے زیادہ پاک زندگی ان کی پائی تھی۔ان کے سگے بھتیجے شیخ اعجاز احمد صاحب ایسے نیک ے ملاحظہ ہو " ذکر ، قبال " (از سالک) " روزگار فقیر" (از فقیر سید وحید الدین) یاد رہے علامہ اقبال نے اپنے نابالغ بچوں کے اولیا کے بارے میں جو وصیت نامہ لکھا اس میں شیخ اعجاز احمد صات کا نام بھی بطور ولی لکھا (روزگار فقیر جلد ۲ صفحه ۱۵۶