تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 178 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 178

146 منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا۔مولوی صاحب موصوف پر فرد جرم عائدہ ہو گیا۔انہوں نے میرزا صاحب قادیان والہ کو صفائی کی شہادت میں پیش کیا۔تین دن تک خلیفہ صاحب کی گواہی ہوتی رہی اور تینوں دن گورداسپور میں احمدیوں کا کثیر اثر دھام رہا۔شہر میں، کچہری میں اسٹرکوں پر جس دھر دیکھو احمدی ہی احمدی نظر آتے تھے۔احمدیوں کے مخالفوں میں سے کئی خلیفہ صاحب کی زیارت کے لئے آتے رہے اور اُن کی نورانی شکل دیکھ کر محو حیرت ہو جاتے تھے۔احمدیوں کے انتظامات، اُن کی تنظیم اور باہمی اتحاد کے نظارے دیکھ کر اکثر لوگ بیحد متاثر ہوئے۔شہر اور مضافات میں خلیفہ صاحب کی گواہی اور ان کے اعلیٰ اخلاق کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔ہم نے خود گورداسپور پہنچ کر تمام حالات کا بچشم خود مطالعہ کیا اور دیکھا کہ غیر احمدی مسلمان خلیفہ صاحب سے اُن کے مریدوں کی عقیدت دیکھ کر بی رمتاثر ہو رہے تھے اور ہر طرف احمدیوں کی تنظیم، استاد ، خلوص اور دینداری کا تذکرہ تھا۔خلیفہ صاحب ہر روز گواہی سے فارغ ہو کر شیخ محمد نصیب صاحب کی کوٹھی کے احاطہ میں ایک مختصر سالیکچر دیتے رہے۔آخری دن کی گواہی کے بعد علیہ نہایت شاندار تھا۔ہزاروں احمدیوں کے علاوہ جل گاہ میں غیر احمدی مسلمان ہندو اور سکھ صاحبان بھی موجود تھے جہاں میرزا صاحب نے ایک شاندار تقریر فرمائی۔غرض مسلمانوں کے خیالات میں احمدیوں کے متعلق بڑی حد تک تبدیلی واقع ہوگئی اور احرار نے احمدیوں کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں جو نفرت پیدا کر رکھی تھی وہ بڑی حد تک رفع ہو گئی۔چنانچہ اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ احمدیوں کے متعلق احراری پراپیگنڈا کی تہہ میں کچھ ذاتی اغراض ہیں ورنہ یہ لوگ با قاعدہ نمازیں پڑھتے ہیں۔شکل وصورت سے پکے مسلمان دکھائی دیتے ہیں۔آپس میں محبت جو مسلمانوں کی خصوصیت ہے۔ان لوگوں میں نظر آتی ہے در آنحالیکہ دوسر مسلمان اس نعمت سے بڑی حد تک محروم ہو چکے ہیں۔الغرض یہ تمام باتیں ہم نے اپنے کانوں سے مشینیں اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ احرار نے قادیان میں جلسہ کر کے اور پھر مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب نے خلیفہ صاحب کو شہادت میں طلب کر کے آکھدیوں کو بہت زیادہ تقویت پہنچائی ہے۔احمدیوں کے متعلق پڑھے لکھنے مسلمانوں کی رائے پہلے کی نسبت بہت اچھی ہوچکی ہے اور اکثر تعلیمیافتہ نوجوان احمدیت کے متعلق ریسرچ میں لگ گئے ہیں۔